ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 510
510 ہے۔آنحضرت جو ہم کہتے ہیں تو اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم غائب بھی ہیں مگر معزز بھی ہیں کیونکہ آں" کا لفظ اعزاز کے لئے بولا جاتا ہے لیکن یوپی میں جب خطاب کرتے ہیں تو بعض دفعہ حاضر کو غائب کے طور پر یہ بتانے کے لئے خطاب کرتے ہیں کہ ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں اور بعض دفعہ غائب کو عزت کی خاطر مخاطب کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ ہم کہتے ہیں کہ آپ نے یہ فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و سلم کو آپ کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ غائب ہیں تو یہ جو طرز تخاطب ہے یہ اسی معنی میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کو عزت اور احترام کی خاطر آپ کہا جا رہا ہے حالانکہ آپ غائب ہیں اور خدا حاضر ہے لیکن اسے عزت اور احترام کی خاطر غائب کیا جا رہا ہے اور کلام کا یہ محاورہ دنیا کے ہر کلام میں ملتا ہے۔پس خدا کے ساتھ اس کی عظمت اور شان کے پیش نظر حاضر ہوتے ہوئے بھی غائب کا خطاب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا خدا کے مرتبہ کے بعد دوسرے مرتبہ پر ذکر ہے لیکن غائب ہوتے ہوئے بھی مخاطب کا خطاب ہے اور اس سے زیادہ اس کے اور کوئی معنی نہیں ہیں۔نعوذ باللہ یہ مطلب نہیں ہے کہ جب ہم سلام بھیجتے ہیں تو جیسا کہ بعض مسلمان یقین کرتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہمارے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں گویا ہر نماز پڑھنے والے کی نماز کے سامنے اس موقعہ پر وہ آکھڑے ہوں گے۔یہ محض ایک جاہلانہ بات ہے۔اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ خیال بھی شرک ہے۔پس جب بھی آپ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ کہتے ہیں تو عزت اور احترام کے لئے خطاب کر رہے ہیں ورنہ حقیقت میں سامنے رکھ کر خطاب نہیں کر رہے۔نماز میں سلام بھیجنے کی حکمت دوسری بات السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّلِحِينَ - ہے یعنی ہم سب پر بھی سلام ہو اور مخاطب کے متعلق متکلم کا صیغہ آیا کرتا ہے۔پس اس پہلو سے بھی التحیات کے اندر ایک حسن بلاغت پایا جاتا ہے۔غائب میں خدا کی بات ہوئی۔پھر مخاطب میں حضرت محمد رسول اللہ کی بات ہوئی۔اس کے بعد ہم متکلم میں داخل ہو گئے