ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 48

48 سکتا ہے۔گردو پیش پر دیکھیں، ایک زمین دار کو بڑے علم کی ضرورت نہیں۔وہ جانتا ہے کہ میں موسموں سے فائدہ اٹھاتا ہوں۔اور موسم آتے جاتے رہتے ہیں۔ایک موسم میں کھو دیتا ہوں تو اگلا موسم دوبارہ وہی مواقع لے کر میرے حضور حاضر ہو جاتا ہے۔اس موسم سے میں فائدہ اٹھاتا ہوں اور پھر وہ موسم نکل جاتا ہے تو میں سوچتا ہوں کہ یہ کمی رہ گئی ، وہ کمی رہ گئی لیکن پھر وہ دوبارہ چکر لگاتا ہوا میرے پاس پہنچ جاتا ہے اور کہتا ہے اچھا اب کہاں پوری کر لو۔موسم کے بار بار آنے میں کوئی کمی نہیں ہوتی لیکن اس سے فائدہ اٹھانے میں کمی رہ جاتی ہے۔مس بعض لوگ ایسے ہیں جن کا رحیمیت سے تعلق اس طالب علم کی طرح ہوتا ہے جو ہر امتحان کے وقت سوچتا ہے کہ جو ہو چکا وہ ہو چکا اگلے امتحان کی دفعہ میں یہ سب تیاریاں کروں گا تا کہ یہ نقص بھی نہ رہے، یہ نقص بھی نہ رہے یہ نقص بھی نہ رہے اور اگلا امتحان پھر بھی آتا ہے لیکن وہ پھر تیاریوں سے محروم رہ جاتا ہے تو استفادہ کرنے کا کام ہمارا ہے لیکن جہاں تک افادہ کا تعلق ہے، فائدہ پہنچانے کا تعلق ہے ، رحیمیت ہر یار اپنے سب جلوے لے کر آتی ہے اور بار بار آتی ہے، رحیمیت کا مضمون بھی اتنا سیع ہے کہ ایک خطبہ چھوڑ بیسیوں خطبات میں بھی مضمون کی نشان دھی بھی پوری نہیں کی جاسکتی لیکن یہ مثال میں نے آپ کو اس لئے دی ہے کہ اس مثال پر غور کرتے ہوئے اپنے علم کو بڑھائیں۔اپنے عرفان کو بڑھائیں، کسی بیرونی علم کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ کے حواس خمسہ یہ اہمیت رکھتے ہیں کہ آپ کو خدا تک پہنچا دیں۔لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ آپ کے اندر خدا تک پہنچنے کی طلب پیدا ہو۔اگر طلب پیدا ہو جائے تو پھر آپ کو اس بات کا عرفان حاصل ہو گا کہ دراصل آپ خدا تک نہیں پہنچتے خدا آپ تک پہنچتا ہے۔حواس خمسہ کے ذریعے آپ ہر چیز تک پہنچ جاتے ہیں لیکن خدا کی توفیق کے بغیر خدا کو پا نہیں سکتے۔پس ثابت ہوا کہ حواس خمسہ بذات خود خداتعالی تک پہنچانے کی اہمیت نہیں رکھتے۔امکانات پیدا کرتے ہیں۔اب ان دو چیزوں میں بڑا فرق ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے مثال دی تھی بڑے بڑے علماء دنیا میں موجود ہیں جو سائنس کے ایسے ماہرین ہیں کہ خدا تعالیٰ کی تخلیق کی باریک در بار یک چیزوں تک ان کی نگاہ