ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 502
502 ہے۔کائنات کا رب ہے اور جابر ہے اور طاقتور ہے اس کے سامنے جھکنا ضروری ہو گیا عقل نے سمجھا دیا یہ بھی ٹھیک ہے لیکن میرے رب کے مضمون میں تو ایک پیار کا مضمون داخل ہو گیا۔پس اسکے بعد کچھ تھے اور تحائف کا سلسلہ بھی تو جاری ہونا چاہیے۔چنانچہ انسان رب کو اپنا بنا کر پھر بڑی عاجزی سے اس کے حضور یہ عرض کرتا ہے کہ التَّحِيَاتُ لِلهِ سب تحالف اللہ کے لئے ہیں۔وَالصَّلَوتُ والطيبات اور تحائف کیا ہیں؟ بدنی قربانیاں۔والصلوتُ اور مالی قربانیاں۔" یہ مضمون ان دو لفظوں سے بیان تو نہیں ہوتا لیکن مجبورا " وقت کی رعایت کے مطابق میں نے خلاصہ یہ کہہ دیا ہے۔بدنی قربانیاں انسان محبوب کے لئے دیکھیں کتنی کرتا ہے۔اس کی خاطر انسان ہر تکلیف اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔یہاں تک کہ محبت کے ادنی درجے میں بھی یہ کیفیتیں روز ہمارے مشاہدے میں آتی ہیں۔ایک سردی کا موسم ہے۔دروازہ کھلا رہ گیا ہے۔ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آتا ہے۔آپ کا کوئی دوست اٹھ کر کھولنے کے لئے جا رہا ہے۔آپ جلدی سے اٹھتے ہیں کہ نہیں تم بیٹھو میں کرتا ہوں۔کیا مصیبت ہے۔کیوں اس کو نہیں کرنے دیتے۔وہ کام کر رہا ہے۔ٹھنڈی ہوا سے آپ بھی بچ جائیں گے وہ بھی بچ جائے گا۔آپ نے کیوں پھل کی۔یہ فطرت کی گری آواز ہے جو آپ کو بتا رہی ہے کہ جب آپ کسی اعلیٰ مقصد کے لئے بدنی تکلیف اٹھاتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں لذت پاتے ہیں۔دینے کے نتیجہ میں جو لذتیں ہیں وہ مضمون ہمیں تحائف کا مضمون سمجھاتا ہے لینے کے نتیجہ میں جولز تیں ہیں وہ اونی حالتیں ہیں۔اصل اعلیٰ لذتیں جو دائمی لذتیں ہیں جو لطیف تر لذتیں ہیں وہ ہمیشہ دینے کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔آپ اپنے محبوب کو کچھ پیش کریں وہ واپس کر دے تو دیکھیں کیسی تکلیف میں آپ مبتلا ہوں گے اور کچھ دیر کے بعد اگر وہ آپ کو کچھ دیتا ہے تو بعض دفعہ لینے کا مزہ تو ہے لیکن تھوڑا سا دل بجھ جاتا ہے اور انسان کہتا ہے کہ میں اس کو کچھ اور دوں تاکہ دینے کے لحاظ سے میں بالا رہوں۔حالانکہ یہ دینا اونی حالت کا دیتا ہے لیکن اس میں بھی انسان ایک قسم کی بالائی حالت چاہتا ہے۔وہ چاہتا ہے میں