ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 503
503 زیادہ دوں اس سے کم لوں۔میں زیادہ تکلیف اٹھاؤں اس کو کم تکلیف پہنچاؤں۔یہ جو لذتیں ہیں یہ انسان کے اندر ایک نیا وجود پیدا کرتی ہیں جس کا خدا سے تعلق قائم ہو سکتا ہے کیونکہ خدا مادی نہیں ہے اور انسانی تعلقات میں اس مضمون کو خدا تعالیٰ نے اسی لئے رکھا ہے۔میں نے جہاں تک Evolution کا مطالعہ کیا ہے میرے نزدیک Evolution اونی کیفیت سے اعلیٰ کیفیت کی طرف حرکت کا نام ہے اور یہ جو Evolution میں ہم بدنی تبدیلیاں دیکھتے ہیں یہ ثانوی حیثیت کی تبدیلیاں ہیں۔یہ مضمون بہت وسیع ہے۔اس کے ایک حصہ پر میں نے ماریشس کی ایک تقریب میں روشنی ڈالی تھی مگر بہت مختصر لیکن سردست میں اس سے گزرتا ہوں کیونکہ اب وقت بھی کم ہو رہا ہے۔باقی مضمون انشاء اللہ پھر بعد میں بیان ہو گا۔بہر حال التحیات کے مضمون میں ہم داخل ہوئے ہیں اور چونکہ آج جلسے کا بھی دن ہے اور بہت سے کام کرتے ہیں اس لئے انشاء اللہ حسب توفیق اگلے جمعہ میں یہ بقیہ مضمون بیان ہو جائے گا۔اور اس جلسے کے آخر پر سورہ فاتحہ کے بعد جو طبعی اور منطقی نتیجہ نکلتا ہے اس کے تعلق میں میں خطاب کروں گا یعنی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالنین کی دعا اگر قبول ہو جائے تو انعام یافتہ لوگوں میں کیا تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور کیا ظاہری علامتیں ان میں دکھائی دینے لگتی ہیں۔اسی طرح مغضوب جب انعام یافتہ لوگوں سے ٹکراتے ہیں تو ان سے خدا کیا سلوک کیا کرتا ہے۔یہ چونکہ بہت ہی وسیع مضمون ہے۔ایک خطبہ میں یہ بیان ہونے والا نہیں۔کچھ حصہ میں نے گزشتہ عید میں بیان کیا تھا۔بقیہ حصہ اگر پورا نہیں تو اس کا ایک حصہ میں انشاء اللہ تعالیٰ جلسہ سالانہ کی آخری تقریر میں بیان کروں گا اور اسکے بعد اب میں نے گھڑی دیکھی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے میں آج کے خطاب کو ختم کرتا ہوں۔