ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 345
345 ہے۔پس جو طالب علم امریکہ جاتے ہیں میں انکو ہمیشہ یہی نصیحت کرتا ہوں کہ وہاں تم کوشش تو ضرور کرو گے بچنے کی لیکن یہ دعا ضرور کرتے رہتا۔چنانچہ والدہ نے جب مجھے دعا کے لئے لکھا تو اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ میرے جو خطرات تھے وہ درست تھے یورپ میں بھی خرابیاں ہیں لیکن جتنی بدیاں اس وقت امریکن یونیورسٹیوں میں اخلاقی لحاظ سے پھیلی ہوئی ہیں میرا خیال ہے دنیا کے پردے پر اس کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔پاکستان میں کثرت سے پھیل رہی ہیں نشہ بہت عام ہو رہا ہے تو وہاں سے جو لوگ ہجرت کرتے ہیں۔ہجرت سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قوم کی بد اعمالیوں سے نجات کی دعا مانگا کریں اور اس کیلئے حضرت لوط کی یہ دعا ہمارے لئے ایک نمونہ ہے رب نقوی داخلي ممَّا يَعْمَلُونَ اے میرے رب مجھے بھی اور میرے اہل کو بھی ہر اس بدی سے نجات بخش جو یہ کرتے ہیں۔فتح نمایاں کے ذریعے روحانی نجات پانے کی دعا حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک دعا ہے رَبّ إِن قَوْمِي كَذَّبُونِ (الشعراء : (۱۱۸) اے میرے اللہ ! میری قوم مجھے جھٹلا بیٹھی ہے فافته بيني و بينهم اب میرے اور ان کے درمیان فرق کر کے دکھا دے وَنَجْنِي وَ مَن مي منَ الْمُؤْمِنِينَ (الشعراء : (19) اور مجھے اور مومنوں کو نجات بخش۔اب یہ بظاہر محض بدن کی نجات کا ذکر چل رہا ہے لیکن اس دعا کو آپ غور سے پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ مضمون اس کی نسبت زیادہ گہرا ہے جو دکھائی دیتا ہے۔آپ نے پہلے یہ دعا کی ہے کہ قوم مجھے جھٹلا بیٹھی ہے اب ہمارے درمیان تمیز کر دے کہ کون پاک ہے کون ناپاک ہے۔اور تمیز اس طرح کر کہ پاکوں کو بچالے اور ناپاکوں کو ہلاک کر دے پس یہاں بدنی نجات کی دعا نہیں تھی۔روحانی نجات کی دعا تھی بدنی نجات کو اس کا نشان بنا کر مانگا گیا تھا۔اب دعا غور سے سنیں رب ان قومي كَذَّبُونِ حضرت نوح نے عرض کیا اے میرے رب! میری قوم مجھے جھٹلا بیٹھی ہے۔یعنی اب اس سے کوئی امید باقی نہیں رہی۔فَافَتح بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ اب میرے اور ان کے درمیان فتحا نمایاں فرق کر کے دکھا دے۔کہ دنیا دیکھ لے کہ کون پاک تھا اور کون تجھے