ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 316 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 316

316 رب میں سرکش لوگوں کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں حمات کا اول ترجمہ وساوس ہیں اور کئی قسم کے برے خیالات ہیں اور دراصل شیاطین کی شرارتوں سے ان کا گہرا تعلق ہے۔اس لئے حضرت مصلح موعودؓ نے اس موقع پر اس کا ترجمہ شرارتیں کر دیا۔ایسے دور جن میں مخالفین کو خاص طور پر غلبہ نصیب ہو اور وہ مؤمنوں سے جس طرح چاہیں سلوک کریں، اس دور میں ان شرارتوں کے نتیجے میں وساوس پیدا کئے جاتے ہیں اور اپنے موقف سے مومنین کو ہٹانے کے لئے طرح طرح کے وسوسے پھیلائے جاتے ہیں کہ دیکھو اگر تمہارا خدا ہوتا، اگر تم کچے ہوتے ، جس پر تم ایمان لائے ہو اگر وہ واقعی خدا نے بھیجا ہو تا تو آج تم کیوں بے سہارا چھوڑے جاتے۔کیوں تم آج ہمارے رحم و کرم پر ڈالے گئے۔پس شرارتوں کے ساتھ وساوس کا گہرا تعلق ہے اور ہم نے گذشتہ ابتلاء کے دور میں پاکستان میں (جو ابھی بھی جاری ہے خاص طور پر یہ دیکھا ہے کہ پہلے احمدیوں کو علموں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔طرح طرح کی شرارتیں کی جاتی ہیں اور پھر خود ظلم کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ دیکھو ہم تو تم پر ظلم کر رہے ہیں اور ہمارا کچھ نہیں ہو رہا اس لئے ہم بچے ہیں تم جھوٹے ہو اور بعض نادان اور جاہل کچھ ظلموں سے تنگ آکر کچھ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس دلیل کو مان جاتے ہیں حالانکہ شیطان اور ظلم کرنے والا سچا ہو ہی نہیں سکتا۔جو شخص ظلم سے کام لے رہا ہے اس ظلم کے نتیجے میں اس کی سچائی کیسے ثابت ہو گئی۔ظالم تو بہر حال جھوٹا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے اس کا ذکر شیاطین کے طور پر فرمایا ہے کہ یہ عجیب بافی اور شیطان لوگ ہیں۔ایک طرف مومنوں کو دکھ دیتے ہیں اور پھر انہی دکھوں کو ان کے ایمان کو متزلزل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں تو اے محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تو یہ دعا کیا کر کہ وَقُل رَّبِّ أعوذبك من حممَاتِ الشَّيطنين - میں شیاطین کے ہر قسم کے شر اور ان شرور کے نتیجے میں پیدا ہونے والے وساوس سے تیری پناہ مانگتا واعُوذُ بِكَ رَبِّ آن يَعْضُرُون بلکہ میں تو یہ پناہ مانگتا ہوں کہ ہم تک ان کی برسائی ہی نہ ہو۔نہ وہ ہم تک پہنچ سکیں نہ ان کے وساوس اور ان کے شر ہمیں چھوئیں۔ہوں۔