ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 303
303 کے درمیان کشمکش جاری ہوتی ہے۔پس وہ حالت جس میں بظا ہر موت غالب آنے والی ہوا سے ہم خطرناک حالت قرار دیتے ہیں ، بیماری تو بعد میں بھی کچھ چلتی ہے ، لیکن اس بعد کی حالت میں صحت کے غلبے کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔پس حضرت عیسی علیہ الصلوة والسلام کے ساتھ بھی صلیب پر چند گھنٹے رہنے کے بعد دو اڑھائی دن ایسی ہی حالت رہی کہ گویا جانکنی کی حالت تھی۔شدید گہرے زخموں میں آپ مبتلا تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ دم آیا کہ نہ آیا، کچھ کہا نہیں جا سکتا تھا، تو تین دن کی مشابہت اس رنگ میں حضرت یونس سے ہوئی کہ حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی مچھلی نے خواه چند ثانیوں کے لئے یا ایک دو منٹ کے لئے ہی پیٹ میں رکھا ہو، جب اگلا ہے تو اس کے زخم بھی اتنے کاری تھے اور اتنا گہرا نقصان ہو چکا تھا کہ تین دن اس کے بعد جان کنی کی حالت میں رہے ہیں۔اگر خدا تعالی بیل اگا کر اس کا سایہ نہ کر دیتا اور اس بیل میں شفا نہ رکھتا تو آپ کے بچنے کے بظاہر کوئی امکان نہیں تھے اور ایسی حالت سے بھی اللہ تعالیٰ نجات بخش دیتا ہے۔پس جہاں بعض احتیاطوں کے سبق ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بے انتہا ہونے کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ایسی خطرناک حالت میں بھی خدا تعالیٰ بچا سکتا ہے جس سے بظا ہر بچنے کی کوئی صورت حضرت زکریا کی دعا کا حقیقی مفہوم رت نہ ہو۔اب میں آخر پر حضرت ذکریا کی دعا کے بعد اس خطبہ کو ختم کروں گا حضرت زکریا کی ایک دعا پہلے بھی گزر چکی ہے۔اب جو دعا قرآن کریم نے دوسرے لفظوں میں ہمارے سامنے رکھتی ہے وہ یہ ہے وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَى رَبِّهُ رَبِّ لَا تَذَرْنِ فَرْدًا وانت خير الورثنين (سورۂ انبیاء : آیت ۹) کہ زکریا کو بھی یاد کرو یاذ نادی ر جب اس نے اپنے رب کو پکارا اور یہ عرض کیا اے میرے خدا! مجھے اکیلا نہ چھوڑ وانت تخير الوارثین اور سب وارثوں میں بہتر تو ہی وارث ہے۔پہلی دعا سے متعلق اگر کسی کو غلط فہمی پیدا ہوئی ہو تو اس دعا میں اس کا ازالہ فرما دیا گیا ہے۔پہلی دعا میں یہ ذکر تھا کہ آپ نے یہ عرض کی کہ اے خدا! میرا کوئی ولی نہیں ہے، مجھے شریکوں کا ڈر ہے میری بیوی بانجھ ہے اور بوڑھی ہے