ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 263

263 کس طرح ادا کرنا چاہیے، اس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔فرمایا : ربِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا یورپی معاشرے کے عذابوں کی وجہ گیا کے لفظ نے یہ بتایا کہ اگر والدین بچوں کی تربیت رحمت کے ساتھ نہیں کرتے تو یہ دعا ان کے حق میں نہیں سنی جائے گی کیونکہ گما کا مطلب ہے جیسے انہوں نے بچپن میں رحمت کے ساتھ میری تربیت کی یہ وہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو بھلا کر یورپ اپنے معاشرے میں کئی قسم کے عذاب پیدا کر چکا ہے۔اولاد کے ساتھ حسن سلوک اور رحم کے ساتھ تربیت کرنا اس لئے بھی نہایت ضروری ہے تاکہ بعد میں بڑے ہو کر اس اولاد کا اپنے والدین سے اسی طرح رحمت اور نرمی اور مغفرت کا تعلق ہو۔اگر بچپن ہی سے والدین اپنی زندگی کی لذتوں میں منہمک پڑے ہوں اور اولا و کو سکولوں کے سپرد کر دیں یا معاشرے کے سپرد کر دیں اور ان کی تربیت میں جو ذاتی تعلق پیدا کرنا چاہئیے وہ تعلق پیدا نہ کریں تو یہ دعا ان کے حق میں نہیں سنی جائے گی) یا درکھیں یہاں بچوں کے ساتھ پیار کا ذکر نہیں ہے۔بچوں کے ساتھ پیار تو ہر معاشرے میں والدین کو ہوتا ہی ہے۔فرمایا ایسا پیار ہو جو تربیت میں استعمال ہوا ہو اور ایسا پیار نہ ہو جو تربیت خراب کرنے والا پیار ہو۔پس پیا ر کے متوازن ہونے کا بھی اس آیت میں ذکر فرما دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ وہ پیا رہی کام کا پیار ہے جس کے نتیجے میں اولاد اعلیٰ تربیت پائے۔پس وہ والدین جو اس بات سے غافل رہتے ہیں ان کی سوسائٹیوں میں کئی قسم کی خرابیاں جگہ پکڑ جاتی ہیں اور ان کی اولادیں جب بڑی ہوتی ہیں تو وہ اپنے والدین کے لئے نہ خدا تعالٰی سے احسان کی دعائیں مانگتی ہیں نہ خود احسان کا سلوک کرتی ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بوڑھے آدمیوں کے گھر ایسے والدین سے بھر جاتے ہیں جن کی اولادیں ان سے غافل ہو چکی ہوتی ہیں۔ان کے ساتھ حسن سلوک تو درکنا ہو ان کی معمولی سی غفلت پر ان کو ڈانٹتے ہیں، ان سے قطع تعلقی کرتے ہیں، ان کے ساتھ بد سلوکی سے پیش آتے ہیں اور جن جن معاشروں میں یہ مرض بڑھتا چلا جاتا ہے وہاں حکومت کے اخراجات