ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 241
241 اور کہا کہ تم آجاؤ۔ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ۔اس نے کہا کہ میں تو اس پہاڑہ میں پناہ لے لوں گا مجھے تمہاری کشتی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس کے بعد اگلا منتظر خداتعالی یہ بیان فرماتا ہے کہ یہ بات ہو رہی تھی کہ ایک موج ان دنوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ ہمیشہ کے لئے نظر سے غائب ہو گیا۔اس پر حضرت نوح نے بڑی بے چینی سے یہ عرض کیا کہ اے خدا! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے اہل کو بچاؤں گا اور میں تیرے مقاصد کو تیرے طریق کار کو نہیں سمجھ سکتا لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے اہل کو غرق ہوتے دیکھ لیا ہے۔تو بہتر جانتا ہے کہ یہ کیوں ہوا ہے لیکن میرے ذہن میں ایک خلش کی پیدا ہو گئی ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو یہ جواب دیا : إنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِك اے نوح ! یہ تیرا اہل نہیں تھا۔إنه عمل غير صالح (عود : ۴۷) یہ بد اعمال بچہ تھا اور بد اعمال اولاد نبیوں غَيْرُ کی اولاد نہیں ہوا کرتی۔یعنی نبیوں کی طرف منسوب ہونے کی اہلیت نہیں رکھتی تو اہل بمعنی اہمیت کے ہے، محض خونی رشتے کے لحاظ سے اولاد ہونا مراد نہیں۔تو خداتعالی نے فرمایا کہ إِنَّهُ عَمَل غَيْرُ صَالِحٍ یہ تو غیر صالح لڑکا ہے۔اس کے اعمال اچھے نہیں۔یہ کیسے تیرا اصل ہو گیا۔فَلا تَسْلُنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ، الي اعقاد أن تَكُونَ مِنَ الْجهلين - فلا تَسْتَلْنِ پس مجھ سے مت سوال کر ایسی باتوں کے متعلق جن کا تجھے علم نہیں ہے۔اِن اعظُكَ أَن تَكُونَ من الجميلين میں تجھے نصیحت کرتا ہوں مبادا تو جاہلوں میں سے ہو جائے یعنی اگر تو نے احتیاط نہ کی تو خطرہ ہے کہ اس نہج پر اگر آگے بڑھتا رہا تو خالوں میں شامل ہو جائے گا۔اس پر حضرت نوح نے پھر بڑی بے قراری سے یہ عرض کیا : قال رت را اعُوذُ بِكَ أَن أَسْتَلْكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمُ اے میرے اللہ ! میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں کہ میں آئندہ کبھی تجھ سے ایسا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو۔والا تغفر لي وتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَيرِينَ (عود : (۴۸) اور اگر تو نے مجھ سے بخشش کا سلوک نہ فرمایا اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں یقینا گھانا پانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔