ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 238 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 238

238 موسلا و هھا بارش شروع ہوئی کہ اس سے جل تھل بھر گئے اور وہ گھوڑا اسی طرح سرپٹ دوڑا جا رہا تھا۔چنانچہ جب وہ پلی آئی تو اس پر وہ یکہ جو اچھلا تو منشی ظفر احمد صاحب تو ٹانگے میں ہی رہے اور منشی اروڑے خان اچھل کر با ہر پانی میں جا پڑے اور اوپر سے بھی پانی تھا اور نیچے سے بھی پانی۔یہ جو چھوٹے چھوٹے واقعات ہیں یہ بیرونی دنیا کے لئے شاید کوئی حقیقت نہ رکھتے ہوں لیکن مومن کی تقویت ایمان کے لئے بیرونی نشانات سے بہت زیادہ دلنشین اور روح میں اتر جانے والے نشانات اس قسم کے ہوا کرتے ہیں اور روز مرہ کی زندگیوں میں احمدیوں کے ساتھ یہ معاملات ہوتے رہتے ہیں۔بعض دفعہ کوئی ایسا آدمی جس سے خدا تعالیٰ اچھی توقع رکھتا ہے کوئی چھوٹی سی غلطی کر بیٹھتا ہے تو اسی وقت اس کو سزا ملتی ہے۔بعض ایسے ہیں جن کو بڑی بڑی غلطیوں پر بھی سزا نہیں ملتی اور وہاں سزا نہ ملنا خدا تعالیٰ کے غضب کی نشانی ہوتی ہے۔بعض دفعہ اپنے پیاروں کو انسان جلدی پکڑتا ہے۔جن سے اچھی توقعات ہوں ان کو جلدی نوکتا ہے۔جن سے اچھی توقعات نہ ہوں ان کی بڑی بڑی چیزوں سے بھی درگزر کر جاتا ہے کہ ان سے توقع ہی یہی تھی۔اس لئے وعاؤں کے مضمون میں آپ کو قرآن کریم میں بھی ایسے بڑے دلچسپ واقعات ملیں گے جہاں دعا کرنے والے نے ذرا کہیں کوئی غلطی کی تو اللہ تعالٰی نے بڑے پیارے اور لطیف انداز میں قبولیت کے وقت اس کی طرف اشارہ فرما دیا۔فرعون کے بارہ میں حضرت موسیٰ کی دعا کا فائدہ پس فرعون کے ڈوبنے کی دعا کا حضرت موسیٰ کی اس دعا سے گہرا تعلق ہے جس کے نتیجے میں بالآخر اس کو ایمان لانے کی بھی توفیق ملی لیکن بیکار اور اس کا کوئی بھی فائدہ اس کو نہ پہنچا لیکن یاد رکھیں کہ انبیاء کی دعائیں تو بیکار نہیں جایا کرتیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک نیا اور لطیف مضمون داخل فرما دیا - يتَكُونَ يَمَن خَلْفَكَ آيَةً ہم تیرے بدن کو محض ایک فضول لطیفہ گوئی کے طور پر نہیں بچا رہے۔خدا تو کوئی عیت کام نہیں کرتا اور پھر میرے بندے موسیٰ کی دعا تھی اس کا کچھ نہ کچھ فائدہ تو پہنچنا چاہئیے۔تو جو فائدہ تجھے نہیں پہنچاوہ تیری وجہ سے آئندہ نسلوں کو پہنچے گا اور آنے والے