ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 220
220 رنگ میں ہے وہ یہ ہے کہ اسلام جس طرح آج غریب ہے یعنی غربت سے شروع ہوا اور دولت سے شروع نہیں ہوا ایسے آخرین آنے والے ہیں کہ وہ بھی اس تاریخ کو دھرائیں گے اور اسلام دوبارہ غریبانہ حالت سے شروع ہو گا۔پس جن آخرین کا ذکر ہے وہ دولت مند نہیں ہیں بلکہ غریب جماعت ہیں لیکن خدا کی محبت میں اور خدا کی خاطر اپنے رزق کو قربان کرتے چلے جاتے ہیں اور نیکی کی راہوں میں چندے دیتے چلے جاتے ہیں۔میں ان امیر قوموں کے لئے اب کی بچنے کی راہ ہے کہ مسیح موسوی کے آخرین سے نکل کر مسیح محمدی کے آخرین میں داخل ہو جائیں اور وہیں ان کے لئے نجات ہے۔آج کے دور کی اہم دعا اب حضرت آدم اور ان کے ساتھی کی دعا جو کہ قرآن کریم میں یوں بیان ہوئی ہے جبکہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور انہیں دھوکہ دیا تو ان دونوں نے عرض کیا : ربنا ظلمنا انفسنا اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔وان لم تغفر لنا وتَرْحَمْنَا لَتَكُونَنَّ مِن الخيرين (سورة الأعرابي : ۲۴) اگر تو نے ہم سے بخشش کا سلوک نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم یقینا گھاٹا پانے والوں میں ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں : ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو خواہ باطن کا خواہ اسے علم ہو یا نہ ہو اور ہاتھ اور پاؤں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہے۔آج کل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہئیے۔ربنا ظلمْنَا انْفُسَنَا وَإِن لم تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ فوظات : جلد ۴ ص ۲۷۵) چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو روحانی طبیب بینا کر بھجوایا گیا تھا اس لئے معلوم ہوتا ہے اس دعا کا اس دور کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔جب میں نے غور کیا تو مجھے