ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 7
نعمت ہے۔اس سے رنگ برنگ کے پھول نکلتے ہیں اور خوشبو میں پیدا ہوتی ہیں اور وہ رزق پیدا ہوتا ہے جو آپ کے لئے حمد بن جاتا ہے تو کیسا عظیم مضمون ہے رب العالمین کی حمد کا کہ کوئی ایک پہلو بھی کائنات کا ایسا نہیں جو استعمال ہونے کے بعد بھی حمد کے مضمون سے خالی ہو۔ہاں ایک طرف سے خالی ہوتا ہے دوسری طرف سے بھر جاتا ہے ایک کی ربوبیت کرتا ہے جب اس کی پیاس بجھا دیتا ہے تو خدا کی ایک اور مخلوق کی ربوبیت کے لئے تیاری کرتا ہے۔پس اس پہلو سے جب آپ کائنات پر نظر ڈالیں تو کوئی ایک زندگی کا ذرہ بھی نہیں ہے جو کسی نہ کسی حالت میں کسی چیز کے لئے باعث حمد نہ ہو۔عالمین نے اس بات کو کھول دیا کہ تم خدا کو اپنی طرح ایک چھوٹی ذات نہ سمجھا کرو۔جب اس کی طرف حمد منسوب کرو اور اسکی ذات میں حمد تلاش کرو تو رب العالمین کے طور پر وہ حمد تلاش کرو۔اور ساری کائنات کی ربوبیت کے لئے اس نے جو نظام جاری فرمایا ہے اس پر غور کرو تو تمہاری نظر چندھیا جائے گی۔تم ساری زندگی لمحہ لمحہ بھی غور کرتے چلے جاؤ گے تو یہ مضمون ختم نہیں ہو گا۔نا ممکن ہے اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں اس زمین میں اور زمین کی ایک فضا میں جو اس زمین کا حصہ ہی ہے، جتنی بھی مختلف قسم کی کیمیاء موجود ہیں، مختلف قسم کے ذرات موجود ہیں یہ تمام کے مختلف شکلوں میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں اور ایک پہلو سے استعمال ہوتے ہیں تو پھر ایک دوسرے پہلو کے لئے تیار ہو کر نکل جاتے ہیں اور کوئی WASTE نہیں۔ضیاع کا کوئی تصور نہیں ہے۔نا ممکن ہے کہ ہم خدا کی اس زمین اور اس کے جو میں سے ایک ذرہ بھی ضائع کر سکیں کیونکہ وہ دوبارہ ری سائیکل (RECYCLE) ہوتا ہے اور یہ توازن اتنا عظیم الشان ہے کہ اتنی بڑی زمین اتنی بڑی اس کی جو اور ان گنت ذروں پر مشتمل لیکن ایک ذرہ بھی بلا مبالغہ اس میں سے ضائع نہیں ہو رہا۔جس طرح چاہیں آپ اس کو استعمال کر کے اس کا حسن چاٹ جائیں، اس کو ختم کر دیں۔وہ جو بھی نئی شکل اختیار کرے گا کسی اور پہلو سے وہ جلوہ دکھانے لگے گا۔کسی اور کے لئے حسین بن کے ابھرے گا۔ایک کا زہر ہے تو دوسرے کا تریاقی بن جائے گا۔ایک کا تریاق ہے تو وہ کچھ دیر کے بعد اس کے لئے زہر بنتا ہے اور ایک اور کے لئے تریاق بن جاتا ہے تو الحَمدُ تمام من