زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 93
زریں ہدایات (برائے طلباء) 93 جلد چهارم بلکہ وہ خدا اور رسول کی محبت کے لئے روپیہ دیتے ہیں۔ان کو خدا تعالیٰ پر ایمان ہے۔رسول کریم ﷺ پر ایمان ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان ہے۔پس وہ ان کی لائی ہوئی تعلیم کو بلند کرنے کے لئے روپیہ بھیجتے ہیں۔وہ تمہاری تعلیم کے لئے روپیہ نہیں دیتے، تمہارے لئے نہیں دیتے بلکہ خدا اور اس کے رسول کے لئے دیتے ہیں۔پس تم اپنی زندگیوں کو اس طرح بناؤ کہ ان کے لائے ہوئے دین کی خدمت کر سکو۔اور اس کے لئے سب سے پہلی بات یہ ہے کہ عمل پر اس کا اثر ظاہر ہو۔کیونکہ انسان جب اعلیٰ اخلاق دکھاتا ہے تو لوگ اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔پشاور میں عیسائیت کے داخلہ کا ایک عجیب قصہ ہے۔شروع شروع میں وہاں عیسائیت کی تبلیغ کے لئے ایک انگریز پادری گیا۔اس نے بہتیری تبلیغ کی مگر کسی شخص نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔اور بارہ برس تک ایک شخص بھی عیسائی نہ ہوا۔لیکن وہ متواتر بازاروں اور گزرگاہوں میں لیکچر وغیرہ دیتا رہا۔ایک دن ایک پٹھان کو خیال آیا کہ یہ پادری ہر روز وعظ کرتا رہتا ہے لیکن کوئی اس کی باتوں پر کان نہیں دھرتا اس کو اس سے منع کرنا چاہئے۔چنانچہ وہ پٹھان اس پادری کے پاس گیا اور کہا تو ہر روز یہاں بولتا ہے اور اس سلسلہ کو بند نہیں کرتا۔پٹھان جو شیلے ہوتے ہی ہیں اس نے پادری کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔وہ پادری ہوشیار تھا اس نے جھٹ کہہ دیا کہ تمہارے مذہب کی تعلیم یہی ہے کہ دوسروں کو مارولیکن میرے مذہب کی تعلیم یہ ہے کہ تی کھا لو مگر صبر کرو۔دوسرے دن پھر جب وہ پادری وعظ کر رہا تھا تو پٹھان گیا اور پھر اس کے منہ پر ایک تھپڑ مارا۔پادری نے پھر وہی کہا کہ تم اپنے مذہب پر عمل کر رہے ہو اور میں اپنے مذہب پر عمل کر رہا ہوں۔تیسرے دن پھر اس پٹھان نے پادری کے تھپڑ مارا۔ایک مالدار اور صاحب جائیداد آدمی نے جب یہ ماجرا دیکھا تو اُسی وقت وہ پادری کے پاس آیا اور کہا کہ میں عیسائی ہوتا ہوں اور میں عیسائی مشن کے لئے اپنا مکان وقف کرتا ہوں۔یہ صرف نمونہ کا اثر تھا حالانکہ حقیقی رحم کی تعلیم صرف اسلام میں ہی ہے اور عیسائیت اس تعلیم سے بالکل عاری ہے۔لیکن دیکھو نمونہ کا کتنا اثر ہوا۔بارہ سال کی کوششوں سے ایک شخص بھی