زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 92
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 92 جلد چهارم انتظام کیا گیا کہ تم اسلام کی اس لڑائی کے لئے جو تمہیں پیش آنے والی ہے تربیت حاصل کر لو اور کفر کی طاقتوں کے مقابلہ کے لئے اپنے آپ کو تیار کر لو۔پھر اس سے بڑھ کر اور کیا بد دیانتی ہو سکتی ہے کہ اس سپہ گری کی طرف تمہیں توجہ ہی نہیں۔تم میں سے کوئی ڈاکٹر بننے کی خواہاں ہے اور کوئی ایم اے کی ڈگری حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن اس چیز کی طرف اسے توجہ ہی نہیں جو ہمارا اصل مقصد ہے۔بھلا سوچو تو کہ لاہور یا امرتسر یا دوسرے شہروں کے لوگوں کو کیا پڑی ہے کہ وہ تمہارے لئے روپے بھیج رہے ہیں۔کیا تم نے بھی خیال کیا کہ وہ کیوں تمہارے لئے روپے بھیج رہے ہیں؟ وہ تمہارے چا نہیں، تمہارے بھائی نہیں ، تمہارے رشتہ دار نہیں، پھر یہ بھی نہیں کہ وہ کروڑ پتی ہیں کہ کروڑوں روپوں میں سے اگر چند روپے یہاں بھیج دیں تو انہیں معلوم تک بھی نہیں ہوتا۔وہ غریب ہیں اور خود تکلیف اٹھا کر روپیہ بھیجتے ہیں۔وہ اس لئے روپیہ نہیں بھیجتے کہ تم ایم۔اے یا بی۔اے بن جاؤ بلکہ وہ اس لئے روپیہ بھیجتے ہیں کہ تم ایسی تعلیم حاصل کرو جس سے تم اسلام کی سپاہی بن جاؤ۔اگر لاہور، امرتسر، گوجرانوالہ، پشاور، یوپی، بہار، بنگال بلکہ ہندوستان سے بھی باہر جاوا اور سماٹرا وغیرہ ممالک کے غریب احمدی چندے بھیجتے ہیں تو کیا وہ اس خیال سے بھیجتے ہیں کہ تم ایم۔اے یا بی۔اے کی ڈگریاں حاصل کر لو؟ نہیں بلکہ وہ اس خیال سے روپیہ بھیجتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا روپیہ اسلام کے سپاہی بنانے کے لئے لگایا جارہا ہے۔پس استادوں اور استانیوں کو ہمیشہ یہ احساس رکھنا چاہئے کہ وہ جرنیل ہیں جن کا کام یہ ہے کہ طالبات کو اسلام کا سپاہی بنائیں۔اور طالبات کو ہمیشہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ ان کا کام ایم۔اے یا بی۔اے کی ڈگریاں حاصل کرنا نہیں بلکہ ان کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اسلام کی سپاہی بنیں۔پس تمہیں چاہئے کہ اپنی زندگیاں اس رنگ میں ڈھالو کہ تم اسلام کی خدمت کر سکو۔میرا یہ مطلب نہیں کہ تم وہ لائنیں اختیار نہ کرو جو ڈگریاں وغیرہ حاصل کر کے اختیار کی جاتی ہیں بلکہ میری غرض یہ ہے کہ تم اپنی زندگیوں کو اس طرح ڈھا لو کہ تم اسلام کی خدمت بجالا سکو۔کیونکہ وہ لوگ تمہاری محبت کے لئے روپیہ نہیں بھیجتے