زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 89

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 89 جلد چهارم دایاں ہاتھ بھی کٹ گیا۔اس پر اس نے جھنڈا لاتوں میں سنبھال لیا۔کفار نے اس کی لاتیں بھی کاٹ دیں تو اس نے مسلمانوں کو آواز دی کہ اب کوئی دوسرا مسلمان اس جھنڈے کو پکڑے کیونکہ میں اس قابل نہیں رہا کہ اب اس کو تھام سکوں۔غرض مقام اور حالات کے لحاظ سے ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔اگر اُس وقت کوئی دوسرا سپاہی ہوتا تو جونہی اس کا ایک ہاتھ کٹ جاتا وہ مرہم پٹی کے لئے فوراً ہسپتال بھاگ جاتا۔اُس زمانہ میں ہسپتال تو نہیں ہوتے تھے جنگوں میں زخمیوں کی مرہم پٹی کے لئے عورتیں ہمراہ ہوتی تھیں۔لیکن چونکہ اس صحابی نے جھنڈا یہ کہہ کر لیا تھا کہ وہ اس کی ذمہ داری ادا کرے گا اس لئے اس نے اپنے سارے اعضاء کٹوا لئے مگر جھنڈے کو نیچے گرنے نہیں دیا۔پس ذمہ داریوں کے لحاظ سے ہر چیز کی اہمیت بڑھتی چلی جاتی ہے۔اسی طرح ہمارے سکول صرف سکول ہی نہیں بلکہ یہ ایسی جگہیں ہیں جہاں تیاریاں ہو رہی ہیں اسلام اور کفر کی اُس جنگ کے لئے جو ہمیں آئندہ پیش آنے والی ہے۔یہ مت خیال کرو کہ آجکل کفر کے ساتھ ہماری جو جنگ ہو رہی ہے وہ اصل جنگ ہے۔اصل جنگ اُس وقت ہوگی جب احمدیت اور زیادہ پھیل جائے گی کیونکہ ابھی تو بڑے بڑے دشمنانِ اسلام ہماری طرف دیکھ کر ہنس رہے ہیں اور ہماری کوششوں پر خندہ زن ہیں۔نقصان پہنچانے والی طاقتیں ہماری ترقی کو ابھی کھیل اور ہنسی سمجھتی ہیں اور ہمارا مقابلہ کرنے والے ابھی ہم پر ہنستے ہیں۔اس وقت جو ہمارا مقابلہ کر رہے ہیں ان میں زیادہ سے زیادہ گالیاں دینے یا ہمارے خلاف بد زبانی کرنے کی طاقت ہے اصل طاقتوں میں سے کوئی طاقت ایسی نہیں جس نے اس وقت تک اسلام اور احمدیت کا مقابلہ کیا ہو۔وہ اُس وقت مقابلہ کریں گی جب وہ دیکھیں گی کہ اسلام تمام دنیا میں پھیلتا جا رہا ہے اور ان پر اثر انداز ہورہا ہے۔لیکن وہ وقت ابھی نہیں آیا۔قرآن کریم میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ آہستہ آہستہ ہوگی 4 جس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے راستہ میں ابتلا بھی آہستہ آہستہ اور بار بار آئیں گے کیونکہ ہر ترقی کے مقابلہ میں ایک ابتلا بھی آیا کرتا ہے۔