زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 87
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 87 جلد چهارم طرح ٹیکسوں کے ذریعہ حاصل کردہ روپیہ نہیں۔ہمارا رو پید ان لوگوں سے آتا ہے جو اپنے آپ کو ہزاروں مشکلات میں ڈال کر اور اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندے بھیجتے ہیں۔اگر ہمارے سکول میں پڑھنے والی لڑکیاں وہ تعلیم حاصل نہیں کرتیں جس کے حاصل کرنے کے لئے انہیں کہا گیا ہے یا اگر استاد انہیں وہ تعلیم نہیں دیتے جس کا دلانا ہمارے مد نظر ہے بلکہ وہ انہیں روحانیت کا سبق دینے کی بجائے ان کی بری تربیت کرتے ہیں تو وہ نہ صرف والدین اور انجمن کی بددیانتی کے مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ ان لوگوں کی بد دیانتی بھی کر رہے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو فاقوں میں رکھ کر چندے دیئے۔اسی طرح وہ لڑکیاں جو عمدہ اخلاق سیکھنے کی بجائے چوری اور جھوٹ وغیرہ کی عادتیں سیکھتی ہیں وہ نہ صرف اپنے ماں باپ کی خیانت کرتی ہیں بلکہ ان ہزاروں، لاکھوں اشخاص کی بھی خیانت کرتی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو تکالیف میں ڈال کر سکول کا انتظام کیا۔اسی طرح وہ استاد جو بچوں کی صحیح تربیت نہیں کرتے نہ صرف اس انجمن کی خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں جس کے وہ ملازم ہیں بلکہ ان ہزاروں لاکھوں نفوس کی بھی خیانت کرتے ہیں جنہوں نے اپنے بیوی بچوں کو تکلیف میں ڈال کر سکول کا انتظام کیا ہے۔پس ہمارے سکولوں کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔ہائی سکولوں میں استاد یا طلباء پر تو صرف دو طرف سے ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ایک تو اُس انجمن یا ادارے کی طرف سے ذمہ داری جس کے زیر انتظام وہ سکول قائم ہے۔دوسرے والدین کی طرف سے ذمہ واری جن کے بچوں کی تربیت ان کے سپرد ہوتی ہے۔لیکن ہمارے ہاں تین قسم کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ایک والدین کی طرف سے، دوسری انجمن کی طرف سے اور تیسرے تمام جماعت کی طرف سے۔پس ہمارے سکولوں کی استانیوں ، استادوں ، لڑکوں اور لڑکیوں کو اس بات پر بہت زیادہ غور کرنا چاہئے کہ ان کی ذمہ داری کس قدر زیادہ ہے۔پھر مقام کے لحاظ سے بھی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔مثلاً ایک لڑائی ہو رہی ہے۔اس میں ایک دستہ فوج کو ایک ایسے دوازے پر کھڑا کیا گیا ہے جہاں لکڑیاں اور اینٹیں وغیرہ پڑی ہیں جن کی حفاظت ان کے ذمہ ہے۔