زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 86
زریں ہدایات (برائے طلباء) 86 جلد چهارم کی اجازت سے دی جاتی ہے۔لیکن اگر کسی دہریہ کے بچے کو بغیر یہ بتانے کے کہ یہاں اسلام کی تعلیم دی جاتی ہے قرآن مجید کا درس دیا جائے تو یہ بھی دھوکا ہو گا جو کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔پس دوسرا قدم بچوں کی تربیت کا یہ ہے کہ ماں باپ کے بعد انہیں استادوں کے سپر د کر دیا جائے۔استادوں کی ذمہ داری گوماں باپ سے کم ہوتی ہے کیونکہ بچوں کی خیر خواہی کے لحاظ سے والدین پر ان کی طرف سے زیادہ فرض ہوتا ہے لیکن تعلیم کے لحاظ سے استاد کی ذمہ داری بھی کچھ کم نہیں ہوتی بلکہ اس کی ذمہ داری تربیتی رنگ میں والدین سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔پھر بچے جب خود ہوش سنبھالتے ہیں تو ان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔مثلاً جب سکول میں انہیں بھیجا جاتا ہے تو یہی سمجھ کر بھیجا جاتا ہے کہ وہ وہی کچھ سیکھیں گے جن کا انہیں حکم دیا گیا ہے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ماں باپ سے بددیانتی کرتے ہیں۔دیکھو سکول میں جانے والی ایک لڑکی دوسری لڑکیوں کے اچھے کپڑے دیکھ کر ماں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ بھی اسے عمدہ کپڑے بنا کر دے۔وہ ماں اسے عمدہ کپڑے بنا کر دیتی ہے لیکن خود اس کے اپنے کپڑوں میں دس دس پیوند لگے ہوئے ہوتے ہیں۔اور بعض اوقات گھر کے اندر اوڑھنے کے لئے کوئی بھی کپڑا نہیں ہوتا۔صرف ایک پھٹا ہوا گرتا ہوتا ہے جو باہر جانے کے لئے وہ استعمال کرتی ہے لیکن اپنی بچی کو وہ اچھے کپڑے سلا کر دیتی ہے۔اب اگر وہ بچی سکول میں جا کر تعلیم کی طرف توجہ نہیں دیتی بلکہ وہاں چوری ، جھوٹ اور فریب سیکھتی ہے لیکن جب وہ گھر جاتی ہے تو ماں اس پر واری صدقے ہوتی ہے کہ میری بچی پڑھ کر آئی ہے اور اسے یہ علم نہیں کہ وہ بچی تعلیم حاصل کرنے کی بجائے جھوٹ اور فریب سیکھ رہی ہے تو اندازہ لگاؤ یہ کس قدر بد دیانتی ہے جس کی وہ لڑ کی مرتکب ہو رہی ہے۔ہماری جماعت کے سکولوں پر تو بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ ان کی غرض صرف دنیوی تعلیم دینا نہیں بلکہ دینی تعلیم دینا بھی ہے۔ہمارے پاس گورنمنٹ کی