زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 85

زریں ہدایات (برائے طلباء) 85 جلد چهارم کے ساتھ بچوں کو مدرسوں میں بھیجتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ دیانت داری سے معاملہ کریں گے۔جب وہ ان کی دیانت داری پر انحصار کرتے ہوئے اپنے بچوں کو ان کے سپر د کرتے ہیں تو ان پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔مثلاً جب والدین اپنے لڑکے یا لڑکی کو سکول میں بھیجتے ہیں تو ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ وہاں حساب ، جغرافیہ اور یونیورسٹی کے دوسرے علوم سیکھیں اور استاد سے انہیں یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ ان مضامین میں انہیں طاق کرے۔اس صورت میں استاد کی حیثیت سے مدرس کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو وہ باتیں ہرگز نہ سکھائے جو اس کے ماں باپ کا منشا نہیں۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یقین دھوکا بازی کا مرتکب ہوتا ہے۔چنانچہ جب کبھی احمدی استاد مجھ سے پوچھتے ہیں کہ سکول کے اوقات میں غیر از جماعت لڑکوں کو اسلام اور احمدیت کے مسائل بتائے جائیں یا نہیں ؟ تو میں انہیں ہمیشہ یہی تلقین کرتا ہوں کہ سکول کے وقت میں ایسا ہر گز نہ کرو۔اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بددیانت ہو گے۔چنانچہ ہمیشہ میں نے احمدی استادوں کو یہ تلقین کی ہے کہ جب تک سکول میں ہو ایسا ہر گز نہ کرو کیونکہ وہاں بچے ایک انتظام کے ماتحت ہیں۔ہاں جب وہ سکول سے باہر ہوں تو اُس وقت وہ اس انتظام کے ماتحت نہیں ہوتے۔اُس وقت انہیں مسائل بتانے میں کوئی برائی نہیں۔کیونکہ اُس وقت ماں باپ دیکھتے ہیں کہ بچے کا وقت کہاں اور کس طرح صرف ہوتا ہے۔اگر اس صورت میں بھی کوئی استاد کسی طالب علم کو حساب پڑھانے کے لئے بلاتا ہے لیکن پھر احمدیت یا یہودیت یا ہندویت کی تعلیم دینا شروع کر دیتا ہے تو یہ دھوکا ہے۔پس استادوں کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔انہیں وہی تعلیم بچوں کو دینی چاہئے جس کے لئے ماں باپ انہیں ان کے پاس بھیجتے ہیں۔سوائے اس کے کہ وہ واضح کر دیں کہ ہمارے ہاں فلاں فلاں چیز کی تعلیم دی جاتی ہے۔مثلاً ایک مدرسہ ہے جہاں قرآن کریم کی تعلیم دی جاتی ہے۔اگر اس بات کو واضح کر دیا جائے تو پھر اگر کوئی ہند و تعلیم کے لئے اپنے بچے کو وہاں بھیجتا ہے تو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہوگی۔کیونکہ اگر اس بچے کو قرآن کریم کی تعلیم دی جاتی ہے تو اس کے والدین