زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 84
زریں ہدایات (برائے طلباء) 84 جلد چهارم لڑکی کو عیسائیت کی تعلیم دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی اسے دیانت داری اور نیک کاموں کی تلقین کرتے ہیں تو وہ بڑے ہو کر اگر مسلمان نہیں ہوں گے تو دیانتداری سے اسلام کا مقابلہ کریں گے اور جب دیکھیں گے کہ اسلام سچا مذہب ہے تو وہ اسے قبول کر لیں گے۔لیکن اگر کسی کو بد دیانتی، جھوٹ ، فریب یا دھوکا بازی کی تعلیم دی گئی ہوگی تو لاکھ سچائی کا راستہ اسے بتاؤ وہ کہے گا کہ مجھے تو سچائی کی تلاش ہی نہیں۔میں تو انہی طریقوں سے روزی کمانے کو جائز سمجھتا ہوں جو مجھے بتائے گئے ہیں۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بچوں کو ماں باپ کے سپرد کیا ہے۔گو یہ سچ ہے کہ ہر بچہ اسلام کی فطرت لے کر پیدا ہوتا ہے اور بعد میں عیسائی، یہودی ، سکھ یا ہندو بنتا ہے۔لیکن قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ زبردستی دوسروں کے بچوں کو اپنے ہاں لے آؤ اور انہیں مسلمان بنالو۔ان کے والدین انہیں غلط تعلیم دیتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ان کے دل میں سچ کے قبول کرنے کا مادہ بھی پیدا کرتے چلے جاتے ہیں۔اس طرح جب وہ بڑے ہوں گے تو جہاں ان میں یہودیت، ہندویت یا عیسائی مذہب کی محبت پیدا ہوگی وہاں اسلام کو قبول کرنے کا مادہ بھی ان میں موجود ہو گا۔اُس وقت جب اس مرد یا عورت کے سامنے اسلام کی تعلیم پیش کی جائے گی تو ماں باپ کی نیکی کے اثر اور تعلیم کی وجہ سے وہ اسلام کو قبول کریں گے۔لیکن اگر ماں باپ کے زیر سایہ بچہ کی تربیت نہ ہوئی ہو بلکہ وہ غیروں کے اثرات کا شکار ہو گیا ہو تو وہ نہ صرف یہودی نہ ہوگا اور نہ صرف عیسائی نہ ہوگا اور نہ صرف ہندو نہ ہوگا بلکہ اس کی فطرت بھی گندی ہوگی اور وہ سچائی کو قبول نہیں کرے گا۔اسی وجہ سے اسلام نے بچوں پر ماں باپ کے حق کو مقدم رکھا ہے۔والدین بالعموم نا دانستہ طور پر جھوٹ یا خیانت کی تعلیم دیتے ہیں دانستہ طور پر عمداً ایسا نہیں کرتے۔غرض میں نے بتایا ہے کہ بہترین اثر قبول کرنے کا وقت بچپن کا زمانہ ہی ہے۔ماں باپ سے اتر کر دوسرا درجہ استادوں کا ہے۔کیونکہ بعض تعلیمیں ایسی ہوتی ہیں جو ماں باپ نہیں دے سکتے اس لئے وہ اپنے بچوں کو مدرسوں میں ڈالتے ہیں اور یہ سمجھ کر مدرسوں میں ڈالتے ہیں کہ وہاں جو استاد یا استانیاں ہیں وہ معتبر ہیں۔اور وہ اس یقین