زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 80
زریں ہدایات (برائے طلباء) 80 جلد چهارم پائی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے رنگ کو قبول کرتے ہیں اور ارد گرد کی شعاعوں ، ہواؤں ، روشنی کے انعکاس اور اپنے ماحول سے اثر کو قبول کرتے ہیں۔یہاں تک کہ اس علم کا گہرا مطالعہ کرنے سے انسان یہ نتیجہ اخذ کر لیتا ہے کہ شاید رنگ ہی دنیا کی پیدائش کا موجب ہوئے ہیں۔اور ڈاکٹریوں میں سے ایک ڈاکٹری ایسی ہے جس میں لوگ صرف رنگوں سے علاج کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ صرف دنیا میں رنگ ہی سب کچھ ہیں۔چنانچہ وہ مختلف قسم کی رنگ دار شیشیوں میں پانی بھر دیتے ہیں اور پھر اس سے بعض بیماریوں کا علاج کرتے ہیں اور بسا اوقات یہ علاج بڑے فائدے کا موجب ہوتا ہے۔بعض بیماریوں کے لئے سرخ شیشیوں میں پانی بھر دیا جاتا ہے، بعض کے لئے زرد شیشیوں میں اور بعض کے لئے سبز شیشیوں میں۔پھر سورج کی شعاعوں کا اثر قبول کرنے کے لئے انہیں رکھ دیا جاتا ہے۔اور پھر بغیر کسی خارجی دوا کے ملانے کے وہ پانی بیماروں کو پلایا جاتا ہے اور ہزاروں لوگوں کو اس کے ذریعہ شفا ہوتی ہے۔یہ طریق علاج انہوں نے اسی قانون کے ماتحت تجویز کیا ہے کہ ہر چیز اپنے پاس سے رنگ اور اثر قبول کرتی ہے۔پس معلوم ہوا کہ یہ ایک ایسا زبردست قانون ہے کہ دنیا کے ہر شعبہ میں اس کا اثر پایا جاتا ہے۔جمادات پر اس کا اثر ہے۔نباتات پر اس کا اثر ہے۔حیوانات پر اس کا اثر ہے۔انسان پر وہ اثر انداز ہے۔اس اثر کے متعلق بے جان چیزوں میں ایک موٹی مثال ہمارے ملک میں یہ پائی جاتی ہے کہ اگر شہد کو کسی کڑوی چیز کے پاس رکھ دیا جائے مثلاً اسے ایلوے کے پاس رکھ دیں تو گوشہد بند بوتل میں ہو گا مگر وہ کڑوا ہو جائے گا۔اس کے علاوہ کئی تجربے ایسے کئے گئے ہیں کہ مختلف اشیاء بغیر تعلق کے ایک دوسرے کے پاس رکھ دی گئیں اور باوجود یکہ ان میں با ہم کوئی تعلق نہیں تھا ایک نے دوسری سے اثر قبول کرنا شروع کر دیا۔پس جب یہ قانون اتنا جاری ہے تو جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ انسان پر صحبت کا اثر نہیں ہوتا اس سے زیادہ بے وقوف اور کون ہوگا۔اگر پتھر اپنے ماحول سے اثر قبول کرتے ہیں۔اگر جھاڑیوں کے نیچے رہنے والے جانور ان جھاڑیوں کا اثر قبول کرتے