زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 73

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 73 جلد چهارم جھوٹ بول لے گا تو اس جھوٹ کا ایک عارضی اثر اس کے دل پر پڑے گا مگر تمہارے دل پر جونقش پیدا ہو گا وہ مستقل اور دائمی ہوگا۔پس جو شخص تمہیں کہتا ہے جھوٹ بولو وہ صرف تمہیں عارضی نقصان نہیں پہنچا تا، ایک دن یا دو دن کے لئے تمہیں تباہی میں نہیں ڈالتا بلکہ مستقل طور پر تمہیں ایسے راستہ پر چلاتا ہے جس کے آگے تباہی ہی تباہی ہے اور جس سے واپسی تمہارے لئے ناممکن ہو گی۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ خاص فضل کرے اور تمہیں اپنے ہاتھ سے ہدایت کی طرف کھینچ لائے۔ہے پس تم کو یہ یا درکھنا چاہئے کہ تم آج دنیا کے لئے ایک باغ لگا رہے ہو جس کی وجہ سے تم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔تمہارے باپ کی حیثیت ایک مالی کی سی ہےمگر تمہاری حیثیت اس شخص کی سی ہے جو باغ لگاتا ہے۔یا تمہارے باپ کی مثال اُس شخص کی سی ہے جو مکان میں قلعی کرتا ہے اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جو مکان کی تعمیر کے وقت اس کی نگرانی کرتا ہے۔قلعی اگر خراب ہو جائے تو پھر بھی کرائی جاسکتی ہے۔لیکن اگر مکان کی بنیاد غلط رکھی جائے تو اس کا سوائے اس کے اور کوئی علاج نہیں ہو سکتا کہ اس مکان کو گرایا جائے۔اور پھر ایک لمبی جدوجہد کے بعد اسے صحیح بنیادوں پر قائم کیا جائے۔پس تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ تمہاری مثال مالی کی سی نہیں بلکہ باغ لگانے والے کی سی ہے۔اگر باغ کا ایک پھل ضائع ہو جائے تو مالی اس کی پرواہ نہیں کرتا۔کہتا ہے اور بہت سے پھل موجود ہیں ایک پھل کی کمی لوگوں کے لئے تکلیف کا موجب نہیں ہوسکتی۔لیکن اگر باغ غلط لگایا جائے ، اگر عمدہ پودے اور اعلیٰ بیج مہیا نہ کئے جائیں تو تم سمجھ سکتے ہو کہ اس باغ کو کتنا شدید نقصان پہنچے گا۔پس مت خیال کرو کہ جو کچھ تمہارے ماں باپ نے کیا وہ زیادہ اہم ہے۔زیادہ اہم وہ ہے جو تم کر رہے ہو۔تمہارے ماں باپ نے جو کچھ کرنا تھا وہ کر لیا لیکن تم جو کچھ اب کر رہے ہو اسی پر آئندہ دنیا کی تعمیر ہونے والی ہے۔پس تمہاری اہمیت ان سے بہت زیادہ ہے۔تمہارے ماں باپ کی مثال اُن فرشتوں کی سی ہے جو دنیا کے کام چلاتے ہیں مگر تم اپنے بچپن کی عمر میں خدا تعالیٰ کے ظل