زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 67
زریں ہدایات (برائے طلباء) 67 جلد چهارم الله طرح طلحہ کا ہاتھ شل ہے اسی طرح یہ خلافت بھی ہمیشہ شل رہے گی۔مگر ان کا ہاتھ کس طرح مثل ہوا؟ احد کی جنگ میں جب دشمنوں نے رسول کریم ﷺ پر حملہ کر دیا اور اسلامی لشکر ایک حادثہ کی وجہ سے جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں منتشر ہو گیا تو اُس وقت حضرت طلحہ نے اپنا ہاتھ رسول کریم ﷺ کے آگے کر دیا تا کہ جو تیر بھی آئے ان کے ہاتھ پر لگے رسول کریم اللہ کی طرف نہ جائے۔اب جس قدر تیر آتے وہ حضرت طلحہ اپنے ہاتھ پر لیتے جاتے۔یہاں تک کہ تیر لگتے لگتے ان کا ہاتھ شل ہو گیا 5 اب تم اس کے مقابلہ میں پنے آپ کو دیکھو اور سوچو کہ کتنی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں پر تم گھبرا جاتے ہو۔کسی شخص کو ایک تیر لگ جائے تو وہ رونے لگ جاتا ہے مگر انہیں تیروں پر تیر لگتے تھے اور وہ اُف تک نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ تیر لگتے لگتے ان کا ہاتھ شل ہو گیا اور ہمیشہ کے لئے بیکار ہو گیا۔بعد میں ایک دفعہ کسی موقع پر ایک شخص نے انہیں لنجا کہہ دیا۔تو انہوں نے کہا ہاں ! میں لنجا ہوں مگر تمہیں پتہ ہے میں کس طرح گنجا ہوا ؟ پھر انہوں نے تمام واقعہ سنایا اور کہا کہ تم تو مجھے لنچا کہہ کر ایک عیب میری طرف منسوب کرتے ہومگر میں یہ تکلیف برداشت کرنا اپنے لئے ہمیشہ باعث فخر سمجھتا ہوں۔غرض تکلیف کی دنیا کو دیکھ کر حقیقت راحت بظاہر معدوم معلوم ہوتی ہے لیکن ہمیں اسی دنیا میں اس دنیا کے متوازی بعض غیر مرئی دنیا ئیں نظر آتیں اور بعض غیر مرئی عالم دکھائی دیتے ہیں جن عالموں اور دنیاؤں میں ایسی راحت ہے جو اس دنیا کی تکلیف کو بالکل بھلا دیتی ہے اس کی ایک مثال میں نے ایمان العجائز یعنی بڑھیا عورت کے ایمان سے پیش کی ہے جو ایمان تو ہوتا ہے مگر لوگ کہہ دیتے ہیں یہ عدم علم اور جہالت کا ایمان ہے۔مگر دوسری مثال میں نے ایسے لوگوں میں سے ایک کی پیش کی ہے جنہوں نے دنیا میں علم کے دریا بہا دیئے اور اپنی قوت قدسیہ سے ایسے عظیم الشان تغیرات پیدا کئے کہ دنیا آج تک ان کے طریق عمل کی نقل کرنے پر مجبور ہے۔انہی میں سے ایک مثال حضرت عثمان بن مظعون کی بھی ہے۔وہ چھوٹے بچے تھے، سترہ اٹھارہ سال ان کی عمر تھی اور رسول اکر م م ا الا اللہ