زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 1
زریں ہدایات (برائے طلباء) 1 جلد چهارم تعلیم الاسلام اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے لئے ہدایات مورخہ 21 جنوری 1932ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں تقریب تقسیم انعامات منعقد کی گئی۔اس موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت , کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔قریباً دو سال کا عرصہ ہوا میں نے اس ہال میں انعامات کے متعلق بعض ہدایات دی تھیں اور چونکہ ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے اس لئے پھر بیان کر دیتا ہوں۔میں نے بتایا تھا کہ انعام لینے والا آتے اور جاتے السّلامُ عَلَيْكُمُ کہے۔لیکن سوائے ایک دو طالب علموں کے کسی نے ایسا نہیں کیا۔پھر میں نے بتایا تھا کہ جس وقت کسی کو انعام دیا جائے وہ جزاک اللہ کہے اور باقی سب بَارَكَ الله کہیں۔اگر چہ بَارَکَ اللہ کے الفاظ مولوی محمد الدین صاحب ہیڈ ماسٹر فرض کفایہ کے طور پر کہتے رہے ہیں لیکن عام طور پر طالب علم اس میں شامل نہیں ہوئے۔دراصل اس قسم کی روایات بھی انسانی طبائع پر اثر کرتی ہیں اس لئے ان کا قیام ضروری ہے۔اس سے طبیعت میں جوش پیدا ہوتا ہے اور حوصلے بڑھتے ہیں۔گویا جو غرض انعام دینے کی ہے وہی ان کی بھی ہے۔اگر ایک طالب علم خاموشی کے ساتھ آئے اور انعام لے کر واپس چلا جائے تو اس پر اس کا اتنا گہرا اثر نہیں ہوگا۔لیکن جب وہ یہ محسوس کرے کہ انعام حاصل کرنے میں اسے جو عظمت حاصل ہوئی ہے اسے اس کے ساتھیوں نے محسوس کیا ہے تو اس کی طبیعت پر اس انعام کا بہت زیادہ گہرا اثر ہو سکتا ہے۔اس کے بعد میں ان طلباء کو جو یہاں موجود ہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ انعامات جن اغراض کے لئے دیئے گئے ہیں وہ بہت مبارک ہیں اور انہیں چاہئے کہ کوشش کر کے انہیں حاصل کریں۔