زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 63
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 63 جلد چهارم ہو جائے تو باوجود اس دنیا کے تمام دکھوں کے وہ خوشی محسوس کرتا اور تمام تکالیف کو بھول جاتا ہے۔حضرت خلیفتہ المسح الاول سنایا کرتے تھے کہ بھیرہ میں ایک بڑھیا عورت رہتی تھی وہ بہت ہی غریب تھی اور اس کے گزارہ کی کوئی صورت نہ تھی۔ایک دن مجھے خیال آیا کہ اس کے پاس چلیں اور اس سے دریافت کریں کہ کسی چیز کی اسے ضرورت تو نہیں۔میں اس کے پاس گیا اور کہا اماں! کوئی ضرورت ہو تو بتاؤ میں خدمت کرنے کے لئے تیار ہوں۔وہ کہنے لگی سُبحَانَ اللهِ مجھے کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔میری ہر ضرورت اللہ تعالیٰ نے پوری کی ہوئی ہے۔آپ فرمانے لگے میں نے پھر کہا نہیں کوئی ضرورت ہو تو مجھے بتاؤ۔وہ کہنے لگی بیٹا ! ایک میں ہوں اور ایک میرا لڑکا ہے۔روٹی ہمیں اللہ تعالیٰ بھیج دیتا ہے، سونے کے لئے ہمارے پاس چار پائی موجود ہے اور ایک لحاف بھی ہے۔ہم ماں بیٹا اسی ایک چارپائی پر سو جاتے ہیں۔جب کچھ دیر کے بعد میرا ایک پہلو ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو میں کہتی ہوں بیٹا! اپنا پہلو بدل لو۔وہ بدل لیتا ہے اور اس طرح مجھے اپنا دوسرا پہلو گرم کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔اور جب میرے بیٹے کا ایک پہلوٹھنڈا ہو جاتا ہے تو وہ کہتا ہے اماں! دوسرا پہلو بدل لے اور میں بدل لیتی ہوں اور اس کا پہلو گرم ہو جاتا ہے۔غرض اسی طرح ہماری ساری رات گزر جاتی ہے۔پھر ہمارے پاس ایک موٹے حروف کا قرآن شریف موجود ہے جو ہم سارا دن پڑھتے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ ہمیں اور کیا چاہتے۔ایک دنیا دار انسان اگر ایسی عورت کو دیکھے تو وہ کہے گا کہ یہ پاگل ہوگئی۔لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا کی تکلیفوں نے اسے کیوں متاثر نہ کیا اور ان کی غربت کی حالت اور ان کے لباس کے فقدان نے کیوں انہیں بے تاب نہ کر دیا۔یہ حقیقت ہے کہ دنیا اپنی تمام کششوں اور اپنے تمام لشکروں کے ساتھ اس بڑھیا عورت اور اس کے بچہ پر حملہ آور ہوئی۔مگر ان کے دل کی جنت نے ان کے جنموں کو ٹھنڈا کر دیا اور وہ رحمت کا پانی جو ان کے اندر سے نکل رہا تھا اس نے دنیا کے غضب کی آگ کو بجھا دیا۔بھلا اس سے زیادہ اور کیا تکلیف ہو سکتی