زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 62

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 62 جلد چهارم کا عام خیال ہے کہ جو لوگ خود کشی کرتے ہیں وہ کسی عارضی جنون کے نتیجہ میں کرتے ہیں۔پس جب خود کشی کرنے والوں کو پاگل کہا جاتا ہے اور آپ بھی ایسے شخص کو پاگل ہی کہیں گے تو تمہارا ان کو پاگل کہنا بتاتا ہے کہ تم اس دنیا کو مصیبت کی دنیا نہیں سمجھتے بلکہ یہ سمجھتے ہو کہ گو یہ مصیبت کی دنیا ہے مگر یہ کسی بڑی نعمت کا پیش خیمہ ہے۔اور جو مصیبت کسی نعمت کا پیش خیمہ ہوا سے کوئی شخص برانہیں کجھتا۔تو اس دنیا کی مشکلات بظاہر ایسے ہیں کہ لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دنیا میں آنا عذاب ہے مگر اس عذاب کی دنیا سے اپنی خوشی سے جاتا کوئی نہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عذاب میں بھی رحمت کا سامان موجود ہے اور ان رحمت کے سامانوں کی وجہ سے ہی انسان عذاب برداشت کر لیتا ہے۔چنانچہ ان رحمت کے سامانوں کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے ابتدا میں ہی ذکر کیا اور فرمایا الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ 2 یعنی سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔اب یہ ہر شخص جانتا ہے کہ جب دنیا میں یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں تعریف کا مستحق ہے تو یہ اسی موقع پر کہا جاتا ہے جب اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل ہوا ہو یا اس کے کام کی وجہ سے اسے خوشی ہو۔یہ نہیں ہوتا کہ مثلاً جلا رجب کسی شخص کو پھانسی پر لٹکائے تو پھانسی پر لٹکنے والا کہے کہ جلاد کا درجہ بلند ہو اور اس کی شان ارفع ہو۔وہ تو اس کو گالیاں دے گا اور اسے برا بھلا کہے گا۔تو جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ خدا کی شان ارفع ہو، اس کی حمد دنیا میں ظاہر ہو تو اس کے معنے یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس پر احسان کیا ہے جس کا وہ ان الفاظ میں شکریہ ادا کرتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں مومن کو اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جب تم قرآن پڑھنے لگو تو تمہاری قلبی حالت ایسی ہو سکتی ہے کہ تم اس دنیا کو مصیبت کی زندگی قرار دو اور اس دنیا میں آنے کو ایک عذاب سمجھو مگر فرمایا الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ اگر تمہاری صرف یہی زندگی ہوتی تب بے شک یہ زندگی عذاب تھی مگر تمہاری یہی زندگی نہیں بلکہ اور بھی انسان کی کئی زندگیاں ہیں بلکہ اسی زندگی کے متوازی ایک روحانی زندگی بھی ہے جو انسان کو اگر حاصل