زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 42
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 42 جلد چهارم کوئی وقعت نہیں سمجھتے۔صرف اخلاق ہی ان پر اثر ڈال سکتے ہیں کیونکہ اخلاق فوراً نظر آ جاتے ہیں اور لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں۔اور اخلاق کا مظاہرہ تم گاڑی میں بیٹھنے کے ساتھ ہی کر سکتے ہو۔انگریزوں نے ایک نیک نمونہ پیدا کیا ہے کہ مرد عورتوں کو گاڑی میں بیٹھنے کے لئے جگہ دے دیتے ہیں اور اگر جگہ کی تنگی ہو تو خود کھڑے ہو جاتے ہیں۔ان لوگوں نے گاڑی میں ، ٹریم کار (Tram Car) میں اسی نمونہ کو ظاہر کیا۔حالانکہ انہی ایام میں یورپ میں عورتوں کو گھروں میں سخت تنگ کیا جاتا تھا۔گھروں میں مردوں کا سلوک عورتوں سے نہایت سخت تھا۔لیکن عورت کو گاڑی وغیرہ میں جگہ دینے کے لئے مرد کے کھڑے ہو جانے کا اثر دوسروں پر بہت اچھا پڑتا۔تو اچھے اخلاق اور اچھی عادات خود بہت بڑا اثر رکھتی ہیں۔اخلاق فاضلہ میں سے ایک صفت وقار بھی ہے۔نماز میں کھڑا ہو کر بار بار کھجلانا اور کھانسنا بھی وقار کے خلاف ہے۔مجبوری کے وقت اگر کوئی کھانس لے تو اور بات ہے۔مجالس میں ڈکار اور اباسی ( جمائی لینا بغیر منہ پر ہاتھ رکھنے کے یہ بھی وقار کے خلاف ہے۔منہ پر ہاتھ رکھنے سے اباسی کی بندش بھی ہو جاتی ہے اور ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اُس وقت جو شکل بگڑتی ہے وہ دوسروں کو نظر نہیں آتی۔ڈکار لینا بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ڈکار کی پیدائش اس گیس سے ہوتی ہے جو معدہ میں پیدا ہوتی ہے۔اگر تم کسی کے منہ کی طرف منہ کر کے ڈکار لو گے تو اسے برا لگے گا۔لیکن اگر تم ڈکار کے وقت منہ کو ایک طرف کر لیتے ہو یا اسے دبا لیتے ہو یا اباسی کے وقت منہ پر ہاتھ رکھ لیتے ہو تو یقینی طور پر دوسروں پر اس کا اچھا اثر ہوگا۔اسی طرح اگر تم کسی مجلس میں بیٹھے ہو اور گو دتے ناچتے نہیں، نہ ہی بلا وجہ کسی معاملہ میں دخل دیتے ہو اور ہنسی مذاق بھی نہیں کرتے اور دوسروں کے مقابلہ میں ایک ممتاز حالت پیدا کرتے ہو تو ممکن ہے کہ کوئی تم سے خود ہی پوچھ لے کہ کہاں سے آئے ہو۔اور اس طرح تبلیغ کے لئے گفتگو کرنے کا موقع نکل آئے۔گھر جا کر ہر بات میں سچ بولنے کا ایک گہرا اثر گھر والوں پر پڑتا ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ یہاں پڑھنے والے بچے کی اعلیٰ عادات کا اثر اس