زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 37

زریں ہدایات (برائے طلباء) 37 جلد چهارم میں امید کرتا ہوں کہ مبلغ بننے والے نوجوان باطن کی صفائی کی طرف خاص توجہ دیں گے۔لوگ کہتے ہیں کہ جو نئے مبلغ نکل رہے ہیں ان کا زیادہ سے زیادہ زور داڑھی کو چھوٹا کرنے پر ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں داڑھی کی لمبائی پر زور دینا بھی کوئی پسندیدہ بات نہیں۔مگر یہ بھی پسندیدہ بات نہیں کہ چھوٹائی پر زور دیا جائے۔وہ لوگ جو مبلغین کی داڑھی پر اعتراض کرتے ہیں ان کو تو میں نصیحت کرتا ہوں کہ ظاہری باتوں کی طرف اتنا نہ جاؤ۔مگر مبلغین سے بھی میں کہتا ہوں کہ وہ بھی داڑھی چھوٹی کرنے پر اتناز ورنہ دیں۔ان کے بزرگ اپنی بیبیوں کے کم محبوب نہ تھے اپنی لمبی داڑھیوں کی وجہ سے۔جتنے وہ سمجھتے ہیں کہ چھوٹی داڑھی سے ہو جائیں گے۔انہیں اپنے اخلاق اعلیٰ بنانے چاہئیں۔ایک دوست نے شکایت کی کہ ان کے ہاں ایک افسر آئے اور انہوں نے ایک مبلغ سے جو وہاں موجود تھا ایک سوال پوچھا تو مبلغ نے کہا ایسا سوال تمہارے جیسا کوئی احمق ہی کر سکتا ہے۔مگر یہ اخلاق سے بالکل گری ہوئی بات ہے۔اس رنگ میں جواب دینا کسی عام آدمی کے لئے بھی مناسب نہیں کجا یہ کہ مبلغ ایسا کہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو گالیاں سن کر دعائیں دیں۔کیا مبلغ اخلاق سے بھی کام۔نہیں لے سکتے۔مبلغ میں تواضع اور انکسار ہونا چاہئے۔خدا تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ ہونا چاہئے۔یہ بات رسم سی بنتی جارہی ہے کہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں میرے لئے دعا کرنا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے دعا کرنا تو اپنے اوپر موت وارد کرنا ہے 4 کہتے ہیں جو منگے سو مر ر ہے۔اور جو مر گیا اس میں جوش کہاں اور خود نمائی اور خودستائی کہاں۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے ایک مبلغ کا مضمون میں نے ”الفضل میں پڑھا۔جب میں اسے پڑھ رہا تھا تو میرا خیال تھا کہ میں قتسم کھا سکتا ہوں یہ اس کا مضمون نہیں ہوگا بلکہ اس کے متعلق کسی اور نے لکھا ہوگا۔لیکن جب میں آخر میں پہنچا تو اسی کا اپنا نام لکھا ہوا تھا۔گویا وہ خود ہی مباحثہ کرنے والا تھا اور آپ ہی اپنی کامیابی کا اعلان کر رہا اور کہ رہا تھا کہ عیسائیت کا قلعہ پاش پاش کر دیا گیا۔اس پر کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان لوگوں کے اخلاق اتنے گر گئے ہیں کہ وہ ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اپنی تعریف آپ کرتے ہیں۔