زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 36
زریں ہدایات (برائے طلباء ) ہوشیاری ظاہر ہوتی ہے۔36 جلد چهارم ہمارے مبلغوں کو اسی پر زور دینا چاہئے۔بجائے ظاہری چالا کی پر زور دینے کے۔اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہئے تاکہ وہ انہیں خود ایسے علوم سکھائے جن سے غلبہ حاصل ہو سکتا ہے۔جو لوگ اپنی چالا کی اور ہوشیاری پر بھروسہ رکھتے ہیں خوب غور سے دیکھ لو ان کے جوابات مقررہ ہوتے ہیں۔لیکن جو اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں ان کو وہ ہر وقت نئے جواب سکھاتا ہے اور وہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ 3 کا نظارہ دیکھتے ہیں۔کوئی سوال کرو اس کا جواب نئی شان کا ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وفات مسیح کا ذکر اپنی تصانیف میں اس قدر کیا ہے کہ تصنیف کی تاریخ میں کسی مسئلہ پر اتنا تکرار نہیں کیا گیا ہو گا۔مگر جہاں سے بھی اس مسئلہ کو پڑھو نیا رنگ نظر آئے گا۔کہیں جذباتی رنگ میں ، کہیں معقولی رنگ میں کہیں منقولی رنگ میں، کہیں آیات قرآنی سے استدلال کرتے ہوئے، کہیں احادیث سے ثابت کرتے ہوئے، کہیں تاریخوں کے حوالوں سے اس کا ثبوت دیا گیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی انسان خدا تعالیٰ کی طرف جھک جاتا ہے تو ہر موقع پر اسے نئے دلائل سو جھتے ہیں۔پس ہمارے مبلغوں کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے کام کرنا چاہئے۔ہمیں ایسے کی ضرورت نہیں ہے جو کتا ہیں رہنے والے ہوں۔بلکہ ان کی ضرورت ہے جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ اپنے علوم پھینکے۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے مبلغین میں اس قسم کی قرآن کریم کے متعلق تحقیق رکھنے والے کم ہیں۔ان کا زیادہ سے زیادہ علم یہ ہے کہ فلاں امام نے یہ لکھا اور فلاں نے وہ لکھا۔گویا درسی تعلیم پر ان کا سارا زور ہے۔حالانکہ اصل چیز وہ ہے جو باطنی علوم سے حاصل ہوتی ہے۔اگر ہمارے مبلغ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کریں، اس کی طرف توجہ کریں اور اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں تو باطنی علوم بلغین کے ذریعہ ان پر یقینا غلبہ حاصل کر سکتے ہیں جو صرف ظاہری علوم رکھتے ہیں۔میں نے اس وقت مختصر الفاظ میں جامعہ احمدیہ کے دارالاقامہ کی غرض بیان کر دی ہے اور