زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 35

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 35 جلد چهارم میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ترقی کریں۔یہ بات ہر وقت اور ہر لمحہ ان کے مدنظر رہنی چاہئے۔کیونکہ جب تک ہمارے وہ نوجوان جو مبلغ بننے والے ہیں ایمان میں اور یقین میں دوسروں سے بڑھ کر نہ ہوں ، دین کے لئے قربانی اور ایثار کی روح دوسروں سے بڑھ کر نہ رکھتے ہوں، ان کی نمازیں اور دعائیں دوسروں کی نمازوں اور دعاؤں سے فرق نہ رکھتی ہوں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے اور یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے۔کیا ؟ یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ ایسے مبلغ بجائے فائدہ کے نقصان پہنچانے والے ہوں گے۔میرا یہ تجربہ ہے اور میں تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ کسی مذہبی جماعت کا انسان دشمن پر علم کے ذریعہ غالب نہیں ہو سکتا بلکہ تقویٰ کے ذریعہ غلبہ حاصل کر سکتا ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے تو وہ اسے خود علم سکھاتا ہے۔میں جب چھوٹا سا تھا تو باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں سے تھا اور خدا تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کی اولا د کو خود علم سکھاتا ہے الا ما شاء الله حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ظاہری سادگی کو دیکھ کر خیال کرتا تھا کہ اگر کوئی اعتراض کرے تو آپ کیا جواب دیں گے۔مگر جب کبھی کوئی اعتراض آپ کے سامنے پیش کیا جاتا اور آپ اس کا جواب دیتے تو یوں معلوم ہوتا کہ اس سے بہتر جواب کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔بات یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان میں سے ظاہری چالا کی دور کر دی جاتی ہے۔وہ سیدھے سادھے نظر آتے ہیں۔مگر جو ان کی صحبت میں رہتے ہیں ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایسی فراست اور ایسا نور پایا جاتا ہے جو کسی اور میں نہیں ہوتا۔بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سادگی کو دیکھ کر آپ کو پاگل کہتے۔مگر آپ کی وہی مثال تھی جو غالب کے اس شعر میں پائی جاتی ہے کہ :۔سادگی و پرکاری بیخودی و ہشیاری حسن کو تغافل میں جرات آزما پایا خدا تعالیٰ نے چونکہ ان سے کام لینا ہوتا ہے اس لئے ایک طرف ان میں کمال سادگی پائی جاتی ہے اور دوسری طرف کمال ہوشیاری۔پھر جب خدا تعالیٰ ان سے کام لیتا ہے تو ان کی