زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 34

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 34 جلد چهارم نہیں کرتا کہ پیچھے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ مدرسہ ہائی کو جب عربی مدرسہ میں تبدیل کرنے کی تجویز ہوئی تو میں ان لوگوں میں سے تھا جو ہائی سکول کو قائم رکھنے کی تائید میں تھے اور مدرسہ احمدیہ الگ بنانا چاہتے تھے۔اُس وقت صرف حضرت خلیفہ امسیح الاول اور میں تائید میں تھے۔اور خلاف ایسا جوش تھا کہ میں نے اپنے کانوں سنا کہ مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول) کا ایمان کمزور ہے کیونکہ وہ ہائی سکول کی بجائے دینی مدرسہ قائم کرنے کے خلاف ہیں۔حالانکہ آپ دینی مدرسہ کے خلاف نہ تھے بلکہ یہ چاہتے تھے کہ دینی مدرسہ بھی ہو اور انگریزی بھی۔اصل بات یہ ہے کہ جب انسان سوچ سمجھ کر کوئی کام شروع کرے تو پھر اسے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔جب یہ معلوم ہو کہ جو کام کر رہے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے ماتحت ہے تو پھر خواہ کچھ ہو اس سے پیچھے نہ ہٹیں۔سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو اس کی بجائے کسی اور طرف توجہ کرنے کی آواز آئے۔گویا خدا ہی ہٹائے تو ہٹنا چاہئے ورنہ نہیں۔اور یہ کوئی اعلیٰ درجہ کے ایمان کی علامت نہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی نے بھی جسے تھوڑی سی سمجھ آگئی تھی کہا تھا فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي 2 كم میں اُس وقت تک یہاں سے نہیں ملوں گا جب تک کہ میرا باپ مجھے اجازت نہ دے یا اللہ تعالیٰ مجھے کوئی حکم نہ دے۔پس اس کے لئے کسی بڑے ایمان کی ضرورت نہیں۔معمولی ایمان کا بھی یہی تقاضا ہے۔یہ اصل جس کو میں نے مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے متعلق اختیار کیا ایسا ہے کہ اسے اس سے زیادہ زور کے ساتھ جماعت احمدیہ کے متعلق اختیار کرنا چاہئے۔اور جماعت کو یہ اصل قرار دینا چاہئے کہ جس کام کو اختیار کریں مضبوطی اور استقلال سے اختیار کریں۔اس کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے تیار رہیں۔سوائے اس کے کہ کوئی کام خدا تعالیٰ کی مشیت کے خلاف ہو۔اب چونکہ مغرب کی نماز کا وقت ہو چکا ہے اس لئے میں زیادہ نہیں کہہ سکتا۔صرف اتنی نصیحت ان طالب علموں کو کرنا چاہتا ہوں جن کے لئے جامعہ احمدیہ اور دار الاقامہ بنایا گیا ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے دار الاقامہ کی اصل غرض یہی ہے کہ نوجوان یہاں رہ کر نیکی اور تقویٰ