زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 33

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 33 جلد چهارم دارالاقامہ جامعہ احمدیہ قادیان کے افتتاح کے موقع پر تقریر 20 نومبر 1934ء کوحضرت خلیفہ اسیح الثانی نے دار الاقامہ جامعہ حمد یہ قادیان کا افتتاح فرمایا۔اس موقع پر تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو خطاب فرمایا وہ حسب ذیل ہے:۔" مجھے اس وقت اس بات سے نہایت خوشی ہوئی ہے کہ جامعہ احمدیہ کے دار الاقامہ کی تجویز آخر کار کامیاب ہو گئی۔ہمارے پرنسپل صاحب جامعہ نے جہاں میری وہ تو جہات بیان کی ہیں جو شروع سے دینی تعلیم کی طرف رہی ہیں وہاں ان میں سے یہ بات رہ گئی ہے کہ دارالاقامہ بھی میرے دوسالہ انجمن اور نظارت میں ریمارکس کا ہی نتیجہ ہے۔میرے نزدیک اصل چیز جامعہ کے کامیاب ہونے کے لئے دار الاقامہ ہے۔کیونکہ یہی وقت صحیح اخلاق سیکھنے اور دینی خدمات کا جوش پیدا کرنے کا ہوتا ہے۔اگر اس عمر میں باہر رہ کر لڑکوں میں ایسے اخلاق پیدا ہو جائیں جن میں دین کے متعلق کمزوری پائی جائے تو ہمارے نوجوان مناظر تو بن سکتے ہیں لیکن مبلغ نہیں بن سکیں گے۔میں سمجھتا ہوں جامعہ سے بھی زیادہ دار الاقامہ ضروری ہے۔ہر شخص جو اس بات کو سمجھ سکے گا کہ آدمی کا تیار کرنا آسان نہیں مگر ٹریکٹ یا کتاب لکھ لینا آسان ہے وہ دارالاقامہ کی اہمیت کا قائل ہوگا۔مبلغ فورا نہیں پیدا کیا جا سکتا۔اس کے لئے سال ہا سال تک کوشش کرنی پڑتی ہے۔یہ وہ چیز ہے جس نے ہمیشہ میرے دل پر اثر ڈالا اور جس کا مجھے خیال رہا کہ اور چیزیں قربان کر کے بھی اسے تیار کرنا چاہئے۔سب سے بڑی چیز جو میرے لئے اس بارے میں باعث رہنمائی ہوئی وہ یہ ہے کہ ضرورت کے وقت میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹ آنا بھی جائز ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے مُتَحَرِّ فَالْقِتَانِ 1 مگر باوجود اس کے ہمارا خدا پسند