زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 28
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 28 جلد چهارم ذبیحہ کا بھی انتظام کر دیتے ہیں۔اس کی کوشش جہاز کے افسروں سے کر لینا ورنہ دوسرا گوشت اگر ذبیحہ کا ہو تو صرف وہ کھانا پرند کا گوشت نہ کھانا۔میں شاذ و نادر خدمت دین کے لئے تیاری کے متعلق ضروری ہدایات طور پر بعض فوائد کے لئے سینما کی غیر معیوب فلموں کو دیکھ لینا جائز سمجھتا ہوں لیکن ناچ کی محفلوں میں شامل ہونا بہت معیوب ہے اور اس سے پر ہیز چاہئے۔جوئے کی قسم کی سب کھیلوں سے پر ہیز چاہیئے۔سینما و غیرہ سے بھی حتی الوسع پر ہیز ہی چاہئے۔لیکن سال میں ایک دو دفعہ دیکھنے کا موقع ہوا اور فلم گندی نہ ہو تو حرج نہیں۔مگر احتیاط کے سب پہلو مدنظر ر ہیں۔تم نے زندگی وقف کی ہوئی ہے۔زندگی وقف کرنے کے یہ معنی ہیں کہ انسان دنیا کے عیش وعشرت اور آرام و آسائش کو ترک کر دے اور دین کی خدمت میں اپنی ہر طاقت صرف کر دے۔یہ امر صرف ارادہ سے حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لئے ہر روز کی تربیت اور تیاری کی ضرورت ہے۔جس طرح سپاہی صرف بندوق پکڑ کر نہیں لڑسکتا بلکہ اسے فنونِ جنگ کے سیکھنے اور ان کی مشق کرتے رہنے کی ضرورت ہے اسی طرح دین کے سپاہی کو بھی ایک لمبی اور مستقل مشق کی ضرورت ہے۔اس لئے اپنے ہر کام میں سادگی پیدا کرو۔تمہارا اصل لباس غربت ہو۔اس کے بغیر تم اپنا عہد پورا کرنے کے قابل نہ ہو گے اور نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو خرید لو گے۔چاہئے کہ تمہارا لباس، تمہارا کھانا پینا، تمہاری رہائش سادہ ہو اور انکسار طبیعت کا خاصہ ہو جائے۔کیونکہ خدمت کرنے والا خدمت گار ہوتا ہے۔اگر ایک انسان کی چال ڈھال اور اس کا قول و گفتگو خدمت گاری پر دلالت نہیں کرتا تو وہ خدمت کر ہی کس طرح سکتا ہے۔خدمت کا میدان غرباء میں ہوتا ہے۔ایسے آدمی کے تو غرباء پاس بھی نہیں آتے۔اگر کوئی تمہارا خادم ہو تو اسے بھائی کی طرح سمجھو۔دل میں شرمندگی محسوس کرو کہ ایک بھائی سے خدمت لینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ہر ایک ادنی اور اعلیٰ سے محبت کرو اور پیار اور اخلاق سے ملو۔بڑوں کا ادب کرو اور چھوٹوں پر شفقت۔