زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 29

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 29 جلد چهارم اپنے علم کی بناء پر یا اگر نیکی کی توفیق ملے اس کی بناء پر لوگوں پر بڑائی نہ ظاہر کرو کہ اس سے نیکی برباد ہو جاتی ہے۔اپنے آپ کو سب سے چھوٹا سمجھو کہ عزت وہی ہے جو انکساری میں ملتی ہے۔جسے خدا اونچا کرے وہی اونچا ہے۔اپنے کسب سے کمائی ہوئی عزت عزت نہیں۔لوٹا ہوا مال ہے جو عزت کی بجائے ذلت کا موجب ہے۔ہر حالت میں دینی خدمت سے غافل نہ ہو۔اپنے نفس پر خرچ کرنے کی بجائے دین پر اور غرباء پر خرچ کرنے کو ترجیح دو۔مجھے بچپن میں تین روپے ملا کرتے تھے۔اس میں سے خرچ کر کے تفخیذ الاذہان چلایا کرتا تھا۔بعض اور دوست بھی اس میں شامل تھے وہ بھی میری طرح بے سامان تھے۔پھر بھی ہم نے رسالہ چلایا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھا چلایا۔پس اپنے آرام پر دین کی مددکو مقدم سمجھو۔چندہ کو اپنے تمام حوائج پر مقدم سمجھو۔اور اس کے علاوہ بھی نفس پر تنگی کر کے صدقہ و خیرات کا خیال رکھا کرو۔(9) تبلیغ زبان سے بھی اور حسن اخلاق سے بھی مومن کا تبلیغ کے متعلق ہدایت اہم فرض ہے اس کو مت بھولو۔اور کوشش کرو کہ وہاں کی رہائش کا کوئی اچھا پھل وہاں چھوڑ کر آؤ۔(10) اچھے دوست پیدا کرو۔بجائے آوارہ اور خوش مذاق دوستوں اچھے دوست کے۔پروفیسروں اور علمی مذاق والے لوگوں کی صحبت کو اپنے دل کی تسکین کا ذریعہ بناؤ۔(11) مسجد کی آمد و رفت کو جہاں تک ہو سکے بڑھاؤ اور مسجد کی آمد و رفت اگر موقع ملے یورپ کے دیگر ممالک کی بھی سیر کرو۔(12) امام مسجد یورپ میں خلیفہ کا نمائندہ امام مسجد احمد یہ لندن کی اطاعت ہے۔اس کی اطاعت اور اس سے تعاون ایمان کا ایک جزو ہے اس میں کوتاہی ہر گز نہ ہو۔(13) مومن بزدل نہیں ہوتا۔عزیزوں کی جدائی شاق مومن بزدل نہیں ہوتا ہوتی ہے مگر تم مومن بنو اور ان کی جدائی تمہاری ہمت کو