زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 313
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 313 جلد چهارم بات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے کہ ہم اپنے گھروں سے نکلیں اور دنیا کی اربوں ارب آبادی تک اسلام کا پیغام پہنچائیں اور اسے محمد رسول اللہ اللہ کی غلامی میں داخل کریں۔خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔یہ عظیم الشان کام اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کے سپرد کیا ہے جو تعداد میں بہت تھوڑی ہے اور دنیا کی ہر جماعت اور ہر قوم کے مقابلے میں چھوٹی ہے لیکن اللہ تعالی اس چھوٹی سی جماعت سے ہی یہ خدمت لینا چاہتا ہے اور تمام دنیا کے لوگوں کو اس میں داخل کر کے اسے ساری دنیا پر محیط کرنا چاہتا ہے۔پس ہمیں یہ فکر نہیں ہے کہ دنیا میں اسلام کیسے پھیلے گا۔اسلام تو جلد یا بدیر بہر حال پھیل کر رہے گا۔ہمیں فکر ہے تو اس بات کا ہے کہ اسلام کو پھیلانے والے کہاں سے آئیں گے۔آج دنیا کا اربوں ارب انسان اسلام کا محتاج ہے اور ان کی اس احتیاج کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں منتخب کیا ہے۔ہم اس فرض سے اسی صورت میں عہدہ برا ہو سکتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں میں خدمت دین اور تبلیغ اسلام کا جوش پیدا ہو۔وہ صوفیائے کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خدمت اسلام کے لئے باہر نکلیں اور دور دراز علاقوں میں پھیل جائیں۔یہاں تک کہ دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہ رہے جہاں اسلام کی تبلیغ نہ ہورہی ہو۔اگر یہ جذبہ ہمارے نوجوانوں میں پیدا ہو جائے تو پھر اربوں ارب لوگ احمدیت میں داخل ہوں گے اور دنیا میں اسلام پورے طور پر غالب آجائے گا۔خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔دنیا کی عزت کوئی عزت نہیں۔اصل اور حقیقی عزت دین کی خدمت میں مضمر ہے۔جو شخص بھی خدمت دین کو اپنا صلح نظر بناتے ہوئے دنیا کے دور دراز علاقوں تک اسلام کا پیغام پہنچائے گا اور اپنی زندگی اس فریضے کی ادائیگی کے لئے وقف کئے رکھے گا اُس کا نام قیامت تک زندہ رہے گا۔اس عزت کے آگے دنیوی شہرت یا عزت کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔حضور نے مزید فرمایا:۔دین ایک بادشاہت ہے جو زور سے حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ اس کا ملنا اللہ تعالیٰ کے