زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 314
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 314 جلد چهارم فضل پر منحصر ہے۔جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کر لیا ہے اسے یہ بادشاہت مل گئی ہے۔پس احمدی نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اس بادشاہت کی قدر کریں اور اس کی وجہ سے جو فرائض ان پر عائد ہوتے ہیں انہیں كَمَا حَقَّہ ادا کریں تاکہ ان کے ذریعہ سے دوسروں کو بھی یہی بادشاہت ملے۔یہ بادشاہت دل میں ایمان اور خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے سے ملتی ہے۔اپنے دلوں میں صحیح ایمان اور خدا تعالیٰ کی سچی محبت پیدا کرو اور پھر دنیا میں پھیل کر ہر ایک کے لئے اس بادشاہت کو عام کر دو۔حضور نے فرمایا:۔جب کوئی شخص اعلیٰ کھانا کھاتا ہے تو طبعا اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے گھر والے بھی یہی کھانا کھا ئیں۔یہاں چینی بھی ہیں، ڈچ گی آنا، انڈونیشیا، ٹرینیڈاڈ اور افریقہ کے طالب علم بھی یہاں موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت نصیب کی ہے لیکن ان کو اس ہدایت کی کیا خوشی ہو سکتی ہے جبکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اپنے ہم وطن اس ہدایت سے محروم ہیں۔طبعا ان کی یہ خواہش ہونی چاہئے کہ یہ علم دین حاصل کر کے اپنے اہلِ ملک کو اسی ہدایت سے بہرہ ور کریں اور انہیں چین نہ آئے جب تک کہ ان کے ہم وطنوں میں سے ہر ایک شخص اس نعمت سے متمتع نہ ہو جائے۔یہ کام جبھی ہو سکتا ہے کہ ہر نو جوان جسے یہ نعمت میسر آئی ہو وہ اس کی صحیح رنگ میں قدر کرے اور دوسروں کو بھی اس سے متمع کرنے کے لئے اپنے گھر سے نکل کھڑا ہو۔پس ہمارے لئے مبلغین کا میدان تبلیغ سے واپس آنا ہی خوشی کا موجب نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر یہ امر خوشی کا موجب ہے کہ مبلغ دوسرے ملکوں کی طرف جائیں اور اس کثرت سے جائیں کہ دنیا کا کوئی علاقہ بھی ایسا نہ رہے کہ جہاں اسلام کی اشاعت نہ ہو رہی ہو۔“ (الفضل 25 نومبر 1956ء)