زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 311
زریں ہدایات (برائے طلباء) 311 جلد چهارم حضور نے فرمایا پس دو باتیں ایسی ہیں جنہیں اگر ہمارے سکولوں دوضروری باتیں میں رائج کیا جائے تو ہماری آئندہ نسلوں میں ملازمتوں کی طرف جانے دستکاریوں سے نفرت کا رجحان بدلا جا سکتا ہے۔ایک تو یہ کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دستکاری کا کوئی کام ضرور سکھایا جائے۔مثلاً لوہار کا کام ہے یا زمیندارہ کا کام ہے جس کے لئے سکول سے ملحق ایک چھوٹا سا قطعہ زرعی فارم کے طور پر مخصوص کیا جا سکتا ہے جس میں عملی طور پر زراعتی ترقی کی ابتدائی باتیں سکھائی جائیں گی۔دوسری بات یہ ہے کہ سکول کے ہر بچے کو کمپونڈری کمپونڈری کے کام کی اہمیت کا کچھ کام سکھایا جائے۔اس کے لئے اگر ہفتے میں صرف دو گھنٹے بھی مخصوص کر دیئے جائیں تو بھی بچے اپنی تعلیم میں حرج کئے بغیر معمولی علاج معالجہ کرنے پر قادر ہو جائیں گے۔اور یہ چیز ایسی ہے جس کی از حد ضرورت ہے۔ملک میں ڈاکٹروں کی بہت کمی ہے اس لئے کمپونڈری کا کام کرنے والے ملک کی بڑی خدمت کر سکتے ہیں اور ہزاروں بلکہ لاکھوں کما سکتے ہیں اور عملاً کما بھی رہے ہیں۔پس میرے نزدیک یہ دو باتیں ایسی ہیں جو اگر ہمارے سکولوں میں رائج ہو جائیں تو ان سے موجودہ ذہنیت کو بدلا جا سکتا ہے۔اور نو جوانوں کے قلوب میں مختلف ہنروں اور پیشوں کو سیکھنے کا شوق اور ولولہ پیدا کیا جاسکتا ہے جس کی بدولت عملی زندگی میں ان کے لئے آمدنی پیدا کرنے اور معیار زندگی کو بلند کرنے کے نئے نئے راستے کھلیں گے۔اور اس طرح جماعت کی مالی حالت بھی زیادہ مستحکم ہو سکے گی اور جماعت اسلام کی ترقی اور دین کی خدمت کے سلسلے میں اپنی سعی کو تیز سے تیز تر کر سکے گی۔آخر میں حضور نے فرمایا اگر نو جوانوں کی موجودہ ذہنیت ہی قائم رہی اور ان میں دستکاری کے پیشوں کو اختیار کرنے کا شوق پیدا نہ ہوا تو یا درکھو اس سے نہ ملک کا معیار زندگی بلند ہوسکتا ہے اور نہ جماعت کی مالی پوزیشن ہی مضبوط ہو سکتی ہے۔کیونکہ گو ملازموں کی تنخواہیں بڑھ گئی ہیں لیکن ساتھ ہی اخراجات زندگی بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں۔“ ( الفضل 23 فروری 1956ء)