زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 306
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 306 جلد چهارم کہ اسلام کی برکت سے انہیں ہزاروں جانور ملے اور وہ دین کے ساتھ دنیا کے بھی بادشاہ ہو گئے۔حضرت ابو ہریرہ کو ہی دیکھ لو۔وہ رسول کریم ﷺ کے آخری زمانہ میں اسلام لائے تھے۔اسلام لانے کے بعد انہوں نے خیال کیا کہ مجھ سے پہلے مسلمانوں نے رسول کریم کی صحبت سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا لیا ہے۔میں اب مسلمان ہوا ہوں اس لئے لازماً مجھے آپ کے بہت کم ارشادات سننے کا موقع ملے گا۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے میں ہر وقت مسجد میں ہی بیٹھا کروں گا تا کہ آپ کی کوئی بات ایسی نہ رہے جو میں نہ سنوں۔آپ ایک غریب گھرانہ کے تھے اس لئے مسجد میں بیٹھے رہنے کی وجہ سے اکثر انہیں فاقے بھی برداشت کرنے پڑتے تھے اور ان فاقوں کی وجہ سے بعض اوقات انہیں بے ہوشی کے دورے پڑ جاتے تھے۔لوگ خیال کرتے تھے کہ یہ مرگی کے دورے ہیں اور عربوں کے اس خیال کے مطابق کہ مرگی کے مریض کے سر پر جوتیاں ماری جائیں تو دورہ ہٹ جاتا ہے لوگ حضرت ابو ہریرۃ کے سر پر جوتیاں مارا کرتے تھے۔لیکن جب خدا تعالیٰ نے اسلام کو فتوحات دیں اور ایک جنگ میں ایران کو فتح کیا گیا اور کسری کے خزانے مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے تو حضرت عمر نے کسریٰ کا وہ رومال جو وہ تخت پر بیٹھنے کی حالت میں استعمال کرتا تھا حضرت ابو ہریرہ کو دے دیا۔ایک دن حضرت ابو ہریر کا کو نزلہ کی شکایت ہوئی اور انہیں چھینک آئی تو انہوں نے اس رومال سے ناک صاف کر لیا۔بعد میں آپ نے خیال کیا کہ یہ تو کسریٰ کا خاص رو مال تھا جو وہ تخت پر استعمال کیا کرتا تھا۔اس پر آپ نے کہا بخ بخ ابو ہریرہ۔کہ واہ واہ ابو ہریرہ کبھی تو وہ وقت تھا کہ بھوک کی وجہ سے تمہیں بے ہوشی کے دورے پڑا کرتے تھے اور لوگ اسے مرگی کا دورہ سمجھتے ہوئے تمہارے سر پر جوتیاں مارا کرتے تھے لیکن آج تو کسریٰ کے رومال سے ناک صاف کر رہا ہے۔پھر آپ نے لوگوں کو یہ واقعہ سنایا اور بتایا کہ میں اس قدر غریب تھا لیکن محمد رسول اللہ اللہ کے طفیل مجھے یہ شان ملی کہ اب میں کسری کے رومال سے ناک صاف کر رہا ہوں۔خدا تعالیٰ نے مجھے