زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 25
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 25 جلد چهارم جبکہ عشق الہی دل میں پیدا ہو اور سب جسم پر بھی اس کا اثر ہو۔کسی شاعر کا قول ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر الہاتا بھی نازل ہوا ہے کہ عشق الہی و سے منہ پر ولیاں ایہہ نشانی - 7 پس اگر انسان خدا تعالیٰ کا ولی بننا چاہے تو چاہئے کہ عشق الہی پیدا کرے۔اور اس کے آثار اس کے جسم پر بھی ظاہر ہوں ورنہ دل کے عشق کو کوئی کیا جان سکتا ہے۔بہت لوگ اس دھو کا میں مبتلا رہتے ہیں کہ ان کے ظاہر پر تو کوئی اثر عشق الہی کا ہوتا نہیں مگر وہ خیال کر لیتے ہیں که عشق الہی ان کے دل میں پیدا ہے۔آگ بغیر دھوئیں کے نہیں ہو سکتی۔دل کی کیفیت چھپی نہیں رہ سکتی۔جس کے دل میں عشق الہی ہوتا ہے اس کی ہر حرکت اور اس کے ہر قول سے عشق الی کی خوشبو آ رہی ہوتی ہے۔بکری کے گوشت کے کباب پکتے ہیں تو اس کی بوذ کی حس والوں کو میل میل پر سے آ جاتی ہے۔پھر کس طرح ممکن ہے کہ ایک انسان کا دل خدائے ذوالجلال کے عشق کی آگ پر پک رہا ہو اور اس کی خوشبود نیا کو مہکا نہ دے۔پس اگر عشق کے آثار نہیں پیدا تو عشق کے سمجھنے میں دھوکا لگا ہے اور ایسے شخص کو اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے۔جب عشق ہوگا تو محبوب کے قرب کی بھی تمنا ہو گی۔یہ قرب کس طرح ملتا ہے؟ اس کی تفصیل اس جگہ بیان نہیں ہو سکتی۔اس کے کئی رنگ ہیں۔نشان سے معجزہ سے، الہام سے، وحی سے ، خواب سے، کشف سے اور ہزاروں رنگ سے وہ بندہ کو حاصل ہوتا ہے۔اور جو بندہ اس کے بغیر تشفی پا جاتا ہے وہ عاشق نہیں۔پس جب تک اللہ تعالیٰ بھی اپنی محبت کا اظہار نہ کرے تسلی نہ پاؤ اور اپنے دل کو اور جلائے جاؤ۔ہاں بوالہوس نہ بنو کہ بعض لوگ اپنے آقا کو بھی فروخت کرنا چاہتے ہیں۔یعنی انہیں خدا تعالیٰ کے قرب کی اس لئے خواہش ہوتی ہے تا لوگوں میں ان کی عزت ہو۔تا وہ لوگوں سے کہیں کہ خدا تعالیٰ ان سے بولتا ہے ان کے لئے نشان دکھاتا ہے اور وہ ولی اللہ ہیں۔وہ اس خواہش کا نام خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کی تڑپ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس طرح دین پھیلا سکیں گے۔لیکن وہ خواہ کچھ کہیں یہ حقیقت پوشیدہ نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنے آقا کو ادنی خواہشات کے حصول کے لئے فروخت کرنا چاہتے ہیں۔الْعِيَاذُ بِاللهِ۔بوالہوس نہ بنو