زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 297
زریں ہدایات (برائے طلباء) 297 جلد چهارم ذاتی کاموں کے مقابلے میں خدا اور اس کے دین کو مقدم رکھنا ضروری ہے مؤرخہ 5 دسمبر 1955 ء کو جامعتہ المبشرین کے اساتذہ اور طلباء نے محترم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے اعزاز میں الوداعیہ تقریب منعقد کی۔اس موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حاضرین کو جن نصائح سے نوازا اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:۔” حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ان حالات پر اختصار سے روشنی ڈالی جن کے تحت ابتدا میں محترم شاہ صاحب کو تبلیغ کی غرض سے بلاد عربیہ میں بھجوایا گیا تھا اور بتایا کہ اس مرتبہ بھی جب میں دمشق گیا تو میں نے دیکھا کہ اب بھی وہاں لوگوں کے دل میں شاہ صاحب کا بہت احترام ہے اور وہ ان کی بہت تعریف کرتے ہیں۔اگر چہ وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک مضبوط جماعت قائم ہے جو نہایت مخلص احباب پر مشتمل ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام کے پیش نظر يَدْعُو لَكَ ابْدَالُ الشَّامِ وَ صُلَحَاءِ الْعَرب میں نے چاہا کہ وہاں جماعت اور زیادہ ترقی کرے اس لئے میں نے شاہ صاحب کو ایک مرتبہ پھر وہاں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔گواب شاہ صاحب کی عمر بڑی ہے اور میں بھی بیمار ہوں۔لیکن میں نے سوچا کہ انسانوں کا کام تو چلتا ہی رہتا ہے خدا اور اس کے دین کا کام بہر حال مقدم رہنا چاہئے۔چنانچہ میرے کہنے پر اسی جذبہ کے ماتحت شاہ صاحب تیار ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام میں اہل شام کا ایک بہت بڑا مقصد بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی دعاؤں کے ساتھ احمدیت کو ترقی دینی ہے پس یہ ضروری ہے کہ دعاؤں اور قربانیوں کا