زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 295
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 295 جلد چهارم ساتھ اس نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ منہ پر پوڈر لگاتی ہے) اٹالین نو وائف یعنی اٹالین بیوی بھی کوئی بیوی ہے۔جب خاوند گھر آتا ہے تو وہ اس کی پرواہ بھی نہیں کرتی۔لیکن جب کوئی دوست گھر آ جاتا ہے تو چہرہ پر پوڈر مل لیتی ہے۔یہی حال ہمارا ہے ہم غیر کو دیکھتے ہیں تو اس کی نقل کرنے لگ جاتے ہیں اور جب گھر میں ہوں تو دھوتی باندھ لیتے ہیں۔گویا ہماری سادگی گھر والوں کے لئے ہے اور ہمارا فیشن دوسروں کے لئے ہے۔اگر ہم خود ایسا کرتے ہیں تو دوسرا شخص ہمارے متعلق کیا خیال کرے گا۔ہمارے ایک امریکن احمدی نو مسلم یہاں آئے تو شلوار پہنے لگے۔میں نے انہیں کہا کہ تم نے اپنے وطن کا لباس چھوڑ کر شلوار کا استعمال کیوں شروع کر دیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس میں آرام رہتا ہے۔پس شلوار اگر چہ آرام دہ لباس ہے لیکن ہم دوسروں کو دیکھ کر اسے چھوڑ دیتے ہیں۔مگر جب یورپین لوگ ہمارے ہاں آتے ہیں تو اپنا لباس ترک نہیں کرتے اور یہ ایک قومی کیریکٹر ہے۔تم بھی اپنے اندر کیریکٹر پیدا کرو لیکن وہ کیریکٹر اسلامی ہو غیر اسلامی نہ ہو۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اسلام میں کوئی خاص لباس نہیں اسی طرح پتلون کوئی انگریزی لباس نہیں۔انگریز تو کچھ عرصہ قبل کھال کی دھوتی پہنتے تھے۔پتلون ترکی لباس ہے اس لئے اس کے پہننے میں کوئی عیب نہیں۔ہاں صرف نقل کرنے میں عیب ہے ورنہ یہ نہیں کہ کوٹ کلمہ پڑھتا ہے اور پتلون حضرت عیسی علیہ السلام کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے۔میں اس وقت کیریکٹر پر بحث کر رہا ہوں۔اگر کوئی لباس آہستہ آہستہ ہماری قوم میں آ جائے تو آ جائے۔اس میں کوئی حرج نہیں۔لیکن تم کسی کی نقل نہ کرو۔آج سے چند سال قبل ہمارے باپ دادے موجودہ کاٹ کا کوٹ نہیں پہنتے تھے۔کچھ کپڑا مہنگا ہو گیا ہے اور کچھ وقار کی وجہ سے لوگوں نے پہلا کاٹ بدل لیا۔پس جس طرح کوئی اسلامی زبان یا غیر اسلامی زبان نہیں اسی طرح کوئی لباس اسلامی یا غیر اسلامی نہیں۔جو لباس آہستہ آہستہ ہم میں آجائے وہ ہمارے لباس کا حصہ ہے۔اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔لیکن تم اپنا