زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 294
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 294 جلد چهارم کریں۔میں نے کہا میں آتی دفعہ چند پاجامے علیگڑھی فیشن کے سلوا کر لایا تھا اور میرا ارادہ تھا کہ میں یہاں آکر وہ پاجامے استعمال کروں گا لیکن اگر انہیں اعتراض ہے کہ میں نے یہاں آکر ان کا لباس کیوں نہیں پہنا تو میں اب وہ پاجامے بھی استعمال نہیں کروں گا شلوار ہی پہنوں گا۔شام کو سر ڈینی سن راس مجھے ملنے آئے۔وہ علیگڑھ میں کچھ عرصہ رہ گئے تھے۔ان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔میں نے ان سے ذکر کیا کہ میں یہاں آ کر اپنا ملکی لباس پہنتا ہوں اور آپ کے ملک کے لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میں ننگا پھر رہا ہوں آخر وہ کیوں برا مناتے ہیں؟ کیا یہ ہمارا ملکی لباس نہیں ؟ سر ڈینی سن راس نے کہا وہ اس لئے برا مناتے ہیں کہ انہیں اس لباس کے دیکھنے کی عادت نہیں۔میں نے کہا پھر مجھے بھی ان کا لباس دیکھنے کی عادت نہیں۔میں اسے برا کیوں نہ سمجھوں۔اگر کوئی روسی، جرمن یا فرانسیسی آپ کے ملک میں آتا ہے اور وہ اپنا ملکی لباس استعمال کرتا ہے تو آپ اسے برانہیں سمجھتے لیکن اگر کوئی ہندوستانی یہاں آکر اپنا لباس استعمال کرتا ہے تو آپ اس پر برا مناتے ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ ہندوستانیوں کو ذلیل سمجھتے ہیں۔سرڈینی سن راس نے کہا ہاں بات تو یہی ہے۔اس پر میں نے کہا اگر یہی بات ہے تو ہر عقلمند ہندوستانی کو چاہئے کہ وہ آپ کی کسی بات میں نقل نہ کرے۔کم از کم میں اس بات کے لئے تیار نہیں کہ آپ کو بڑا سمجھوں اور اپنے آپ کو ذلیل سمجھوں۔میں نے کہا سر ڈینی سن راس! مجھے سچ سچ بتائیں کیا آپ لوگ اپنے ذہن میں ہر اُس ہندوستانی کو ذلیل نہیں سمجھتے جو ہر بات میں آپ کی نقل کرتا ہے؟ انہوں نے کہا بات تو یہی ہے۔پس تم نے ہر جگہ پھر نا ہے۔اگر تم ہر بات میں دوسروں کی نقل کرو تو تمہارے ملک اور مذہب کی کیا عزت رہ جائے گی۔ہم جب انگلستان گئے تو جس جہاز میں ہم سفر کر رہے تھے اس کا ڈاکٹر مجھے ملا۔وہ اٹلی کا رہنے والا تھا وہ ابھی کنوارا تھا۔میں نے اسے کہا تم شادی کیوں نہیں کرتے؟ وہ انگریزی نہیں جانتا ا تھا۔اس نے اشاروں سے بات کو سمجھانے کی کوشش کی اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہنے لگا۔اٹالین وائف ہسبنڈ کم ہوم۔شی سٹنگ۔اے فرینڈ کم ہوم، شی۔اس کے