زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 293

زریں ہدایات (برائے طلباء) 293 جلد چهارم مسلمان ہزار یا دو ہزار روپیہ دے دو تو یہ تمہارے ساتھ شراب بھی پی لے گا حالانکہ شراب اسلام نے حرام کی ہے۔چنانچہ اس نے ایک دن اس مولوی سے کہا کہ میں آپ کی وجہ سے اسلام قبول کر رہا ہوں اور اپنا سب کچھ چھوڑ رہا ہوں تم دیکھتے ہو کہ میں شراب کا عادی ہوں۔اسلام قبول کرنے کے بعد تو مجھے شراب پینا ترک کرنا ہو گا۔اب آخری دفعہ مجلس لگ جائے تو کیا ہی اچھا ہو۔اور پھر جب میں نے آپ کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دینا ہے تو آپ میری خاطر ایک دفعہ تو شراب پی لیں۔میں آپ کی خدمت میں دو ہزار روپیہ نذرانہ پیش کروں گا۔چنانچہ مولوی صاحب نے دو ہزار روپیہ ہاتھ میں لیا اور شراب پی لی۔اس سے اس نے معلوم کر لیا کہ آریہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں وہی درست ہے۔مہ کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں چنانچہ وہ برہمو سماج میں چلا گیا۔پس تمہیں اپنے آپ کو ایسا بنانا چاہئے کہ جو کچھ تم منہ سے کہتے ہو اس پر عمل بھی کرو۔تمہارا قول اور فعل ایک ہو۔آخر وجہ کیا ہے کہ یورپ والے تمہاری نقل نہیں کرتے لیکن تم یورپ والوں کی نقل کرتے ہو۔در حقیقت جب تم ان کی نقل کرتے ہو تو اپنی ذلت پر آپ مہر لگاتے ہو۔میں جب انگلستان گیا تو چونکہ وہاں سردی زیادہ تھی اس لئے میں کچھ علیگڑھی فیشن کے گرم پاجامے بھی بنوا کر ساتھ لے گیا اور میرا ارادہ تھا کہ وہاں جا کر انہیں استعمال کروں گا۔لیکن میں نے وہاں جاتے ہی پاجامے استعمال نہیں کر لیتے تھے۔میں نے ابھی شلوار ہی پہنی ہوئی تھی کہ ایک دو دن کے بعد امام صاحب مسجد لندن میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ کے شلوار پہننے کی وجہ سے لوگوں کو ٹھوکر لگ رہی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ امام جماعت احمد یہ ننگے پھر رہے ہیں۔کیونکہ اگر کسی کی قیمص پتلون سے باہر ہو تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ نگا ہے۔میں نے کہا اگر وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ میں نے ان کے وطن کا لباس نہیں پہنا اس لئے میں نگا ہوں تو یہ ان کی عقل کا فتور ہے۔میں نے لباس پہنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا بہر حال ان کا لحاظ کرنا چاہئے آپ شلوار کی بجائے پتلون پہن لیا