زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 292

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 292 جلد چهارم کس طرح ادا کرے۔اس بخیل نے دوسرے شخص سے کہا آؤ میں تمہیں نیوتا نہ دینے کی ایک تجویز بتاؤں۔چنانچہ وہ دونوں چھت پر چڑھ گئے اور چھت کے اوپر پیر مارنے لگے۔اس سے نیچے بیٹھے ہوئے لوگوں پر مٹی گری۔گھر کے مالک نے آواز دی اور کہا تم چھت پر کون ہو؟ اس پر اس بخیل نے کہا اچھا! اب ہم کون ہو گئے اور یہ کہتے ہوئے وہ دونوں وہاں سے ناراض ہو کر چلے گئے۔اس وقت مختلف اسلامی فرقوں کے درمیان جو اختلافات ہیں وہ بھی اسی قسم کے ہیں۔تھیوری ڈاگما اور کریڈ (Theory dogma or Crccd) آرام سے طے کرنے والی باتیں ہیں۔یہ ایسی باتیں نہیں جن پر لڑا جائے۔پس میں تم سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم تعلیم الاسلام پر عمل کرو۔پھر چاہے تم کسی فرقہ کے عقائد کے مطابق چلو تمہارے اختلافات دور ہو جائیں گے۔اس کے بعد میں اپنے بچوں سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جب میں نے دوسروں سے کہا ہے تو ان سے کیوں نہ کہوں۔میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم اپنے عمل سے یہ ثابت کر دو کہ تمہارا ایک قومی کیریکٹر ہے۔اگر تم مثلاً کسی کے بہکانے سے سینما دیکھنے چلے جاتے ہو تو تمہارا کیا کیریکٹر ہے۔اگر تمہارا اتنا ہی کیریکٹر ہے کہ ٹکٹ مفت مل گیا تو سینما دیکھ لیا تو جب ملک کی کسی دشمن سے لڑائی ہوئی اور تم کسی دستہ فوج کے کمانڈر ہوئے تو کیا تم دباؤ کے نیچے آ کر ملک کے راز افشاء نہیں کرو گے؟ اگر تم چھوٹی چھوٹی باتوں میں اپنے کیریکٹر کا خیال نہیں رکھتے تو تم بڑی باتوں میں اس کا خیال کیسے رکھو گے۔تم دیال سنگھ کالج کو تو جانتے ہو گے لیکن تمہیں شاید اس بات کا علم نہ ہو کہ اس کے بانی کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔اس نے اسلام کا مطالعہ کیا۔اس کا ایک مولوی سے دوستانہ تھا۔اس نے جب اسلام کا مطالعہ کیا تو اس نے اسے قبول کرنے کا ارادہ کر لیا۔آریوں کو پتہ لگا تو انہوں نے اسے سمجھانا شروع کیا۔اس نے کہا مجھے اسلام کے مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس سے بہتر اور کوئی مذہب نہیں۔انہوں نے کہا تم نے صرف کتابی علم حاصل کیا ہے تم نے ان لوگوں کے عمل کو نہیں دیکھا۔تم اس مولوی کو جس سے تمہارا دوستانہ ہے ایک