زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 285

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 285 جلد چهارم ہو گیا اور جب ہمارے مبلغ واپس آنے لگے تو وہ بھی انہیں چھوڑنے آیا۔ہمارے مبلغ نے اس سے سوال کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کسی دن پاکستان کی عظمت اور اس کا رعب بھی دنیا پر قائم ہو جائے گا؟ عیسائی پادری نے کہا جب تک اس ملک میں حقہ کا رواج ہے اور جب تک اس ملک میں سستی اور کاہلی پائی جاتی ہے پاکستان رعب اور عظمت حاصل نہیں کر سکتا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ ویسٹ آف ٹائم اور ویسٹ آف انرجی دونوں انسان کو ترقی کی طرف قدم بڑھانے نہیں دیتیں۔دیکھ لو پور پین لوگوں میں بیداری پائی جاتی ہے لیکن ان کے مقابلہ میں ہمارے ہاں ایک جمور پایا جاتا ہے۔گویا ہم افیونی ہیں۔افیونی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک طبعی افیونی ہوتے ہیں اور دوسرے نفسیاتی افیونی ہوتے ہیں۔ہم نفسیاتی افیونی ہیں۔میں جب انگلستان گیا میرے ساتھ سلسلہ کے ایک عالم بھی تھے۔ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا حضور ! کیا آپ نے یہاں کوئی آدمی چلتے بھی دیکھا ہے؟ میں ان کا مطلب سمجھ گیا میں نے کہا نہیں۔میں نے یہاں ہر شخص کو دوڑتے دیکھا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا کوئی آفت آ رہی ہے۔کئی لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں یورپ والی مزدوری نہیں ملتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ یورپ کا مزدور ہمارے مزدور سے پانچ گنا زیادہ کام کرتا ہے۔اگر ہمارے ملک میں ایک مزدور ڈیڑھ روپیہ روزانہ کماتا ہے تو ایک یورپین مزدور دن میں ساڑھے سات روپیہ کا کام کر دیتا ہے۔اب پاکستانی مزدور کے مقابلہ میں پانچ گنا زیادہ کام کرنے پر اگر اسے پانچ روپیہ روزانہ مزدوری دی جائے تو کیا حرج ہے۔وہاں ایک عمارت بن رہی تھی۔ہمیں پہلی نظر میں یوں معلوم ہوا کہ گویا آگ لگی ہوئی ہے اور لوگ اسے بجھانے کے لئے جا رہے ہیں۔لیکن ہمارا مزدور اس طرح چلتا ہے کہ گویا اسے دھکا دے کر موت کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔جب وہ ٹوکری اٹھاتا ہے تو آہ بھرتا ہے، پھر کمر پر ہاتھ رکھتا ہے، پھر اینٹ پر پھونک مارنے لگتا ہے، اس کے بعد وہ اسے اٹھا کر ٹوکری میں رکھتا ہے اور یہی عمل وہ دوسری اینٹوں پر کرتا ہے۔آٹھ دس منٹ