زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 283
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 283 جلد چهارم تعلیم الاسلام کالج کا طالب علم ہونے کی وجہ سے اسلام کی تعلیم پر چلے۔اب اسلام کی تم کوئی تعریف کرو اسلام کی جو تعریف ہمارے باپ دادوں نے کی ہے تم اسی کو مانولیکن اگر تم اس تعلیم پر جسے تم خود درست سمجھتے ہو عمل نہیں کرتے تو یہ منافقت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کالج میں اگر کوئی ہندو بھی داخل ہونا چاہے تو ہمارے کالج کے دروازے اس کے لئے کھلے ہیں لیکن وہ بھی اس بات کا پابند ہو گا کہ اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرے۔کیونکہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کرے۔مسلمان اپنے مذہب کے مطابق عمل کرے، ہندو اپنے مذہب پر عمل کرے، عیسائی عیسائیت پر عمل کرے اور یہودی یہودیت پر عمل کرے۔پس اس اسلامی حکم کی وجہ سے ہم اسے مجبور کریں گے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کرے۔لیکن یہ کہ تم اس کالج میں تعلیم حاصل کرو لیکن کسی مارل کوڈ کے ماتحت نہ چلو تو یہ درست نہیں ہوگا۔تمہیں اس کالج میں داخل ہونے کے بعد اپنے آپ کو کسی نہ کسی مارل کوڈ کی طرف منسوب کرنا ہوگا اور پھر تمہارا فرض ہوگا کہ تم اس کے ماتحت چلو۔پس اگر تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ میں مسلمان نہیں تب بھی ہم تمہیں برداشت کر لیں گے لیکن اس شرط پر کہ تمہیں اس کالج میں داخل ہونے کے بعد اپنے آپ کو کسی مارل کوڈ کی طرف منسوب کرنا ہو گا۔چاہے تم اسے تجربہ کے طور پر تسلیم کرو۔مثلا تم تجربہ کے طور پر اپنے ماں باپ کے مذہب کو اختیار کر لو تب بھی ہم برداشت کر لیں گے۔لیکن اگر تم کسی مارل کوڈ کے ماتحت مستقل طور پر نہیں چلتے اور نہ کسی مارل کوڈ کو تجربہ کے طور پر اختیار کرتے ہو تو دیانتداری یہی ہے کہ تم اس کالج میں داخلہ نہ لو۔اسلام کہتا ہے کہ تم جس مذہب کی تعلیم پر بھی عمل کرنا چاہو عمل کرو۔ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔اگر کوئی ہندا اپنی تعلیم پر عمل کرتا ہے، عیسائی اپنی تعلیم پر عمل کرتا ہے، یہودی اپنی تعلیم پر عمل کرتا ہے تو وہ ، اس کالج میں داخلہ لینے کا مستحق ہے۔اگر کوئی حنفی المذہب ہے اور وہ حنفی مذہب پر عمل کرتا ہے تو وہ اس کالج میں داخلہ لینے کا مستحق ہے۔اگر کوئی شیعہ ہے اور اپنے مذہب پر عمل کرتا ہے