زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 282
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 282 جلد چهارم عیسائیوں سے تم کوئی معاملہ کرتے ہوئے نہیں گھبراؤ گے کیونکہ ان کی مذہبی کتاب میں لکھا ہے کہ تم جھوٹ نہ بولو اور کسی سے فریب نہ کرو۔انفرادی طور پر اگر کوئی شخص تم سے فریب کرے تو کرے لیکن اپنے مارل کوڈ (Moral Code) کے ماتحت وہ تم سے فریب نہیں کرے گا۔اہل کتاب کی لڑکیوں سے جو شادی کی اجازت دی گئی ہے وہ بھی اسی حکمت کے ماتحت ہے کہ وہ تمہاری زوجیت میں آجانے کے بعد اپنے مارل کوڈ کے ماتحت چلیں گی۔مثلاً یہودیت اور عیسائیت کی تعلیم کے ماتحت کوئی عورت اپنے خاوند کو زہر نہیں دے گی۔اس لئے تم اطمینان سے اپنی زندگی بسر کر سکو گے اور ایک دوسرے پر اعتماد کر سکو گے۔گویا شریعت نے مذہب کو بہت عظمت دی ہے اور بتایا ہے کہ اپنے مخصوص عقیدہ پر چلنے میں بڑی سیفٹی ہے۔پس کم از کم اتنا تو کرو کہ اپنے عقائد کے مطابق عمل کرو۔اگر کوئی پروفیسر تمہیں کسی احمدی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے مجبور کرتا ہے تو تم اس کا مقابلہ کرو اور میرے پاس بھی شکایت کرو۔میں اس کے خلاف ایکشن لوں گا۔لیکن اگر وہ تمہیں کہتا ہے تم نماز پڑھو تو یہ تمہارے مارل کوڈ کے خلاف نہیں اور اس کا نماز پڑھنے کی تلقین کرنا ریلیجس انٹرفیرنس (Religious Interference) نہیں۔تم نماز پڑھو چاہے کسی طرح پڑھو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔تم اپنے میں سے کسی کو امام بنا لو۔کالج کے بعض پر وفیسر غیر احمدی ہیں تم ان میں سے کسی کو امام بنالولیکن نماز ضرور پڑھو۔شیعہ اور بوہرہ لوگ نماز پڑھتے ہوئے ہاتھ چھوڑتے ہیں باندھتے نہیں۔ہم اہل حدیث کی طرح سینہ پر ہاتھ باندھتے ہیں۔حفی لوگ ناف کے نیچے ہاتھ باندھتے ہیں۔اس کے خلاف اگر کوئی پروفیسر تمہیں مجبور کرتا ہے تو تم اس کی بات ماننے سے انکار کر دو۔اگر وہ کہتا ہے کہ تم آمین بالجبر کہو تو یہ اہلحدیث کا مذہب ہے حنفیوں کا نہیں۔اگر تم حنفی ہو تو تم اس کی بات نہ مانو اور میرے پاس شکایت کرو میں اس کے خلاف ایکشن لوں گا۔مذہب میں دخل اندازی کا کسی کو حق نہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ مذہب میں مداخلت کرنا انسان کو منافق بنا تا ہے مسلمان نہیں بناتا۔لیکن تم میں سے ہر ایک کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ