زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 281

زریں ہدایات (برائے طلباء) 281 جلد چهارم ہوں کہ تم اسلام کی تعلیم سیکھو تو میرا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تم احمدیت کی تعلیم سیکھو۔ہمارے نزدیک تو اسلام اور احمدیت میں کوئی فرق نہیں۔احمدیت حقیقی اسلام کا نام ہے۔لیکن اگر تمہیں ان دونوں میں کچھ فرق نظر آتا ہے تو تم وہی سیکھو جسے تم اسلام سمجھتے ہو۔اگر انسان کرتا اور ہے اور کہتا اور ہے تو وہ غلطی کرتا ہے۔دیوبندی بریلویوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ ان کا اسلام اور ہے۔بریلوی دیوبندیوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ ان کا اسلام اور ہے۔اور سنی شیعوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ ان کا اسلام اور ہے اور شیعہ سنیوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ ان کا اسلام اور ہے۔اسی طرح آغا خانیوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام اور ہے۔جماعت اسلامی کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام اور ہے۔احمدیوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام اور ہے۔لیکن جب یہ سب فرقے اپنے آپ کو اسلام کا پیرو کہتے ہیں تو وہ اسلام کے متعلق کچھ نہ کچھ تو ایمان رکھتے ہوں گے ورنہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کیوں کہتے۔بریلوی بھی مسلمان ہیں ، دیو بندی بھی مسلمان ہیں، سنی بھی مسلمان ہیں، شیعہ بھی مسلمان ہیں ، جماعت اسلامی والے بھی مسلمان ہیں ، احمدی بھی مسلمان ہیں۔تم ان میں سے کسی فرقے کے ساتھ تعلق رکھو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ جو کچھ تم مانتے ہو اس پر عمل کرو۔قرآن کریم میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ اے عیسائیو! تم میں اُس وقت تک کوئی خوبی نہیں جب تک تم عیسائیت پر عمل نہ کرو اور یہودیوں سے کہا گیا ہے کہ اے یہودیو! تم میں اُس وقت تک کوئی خوبی نہیں جب تک تم یہودیت پر عمل نہ کرو۔اب دیکھ لو قرآن کریم ان سے یہ نہیں کہتا کہ تم اسلام پر عمل کرو بلکہ یہ کہتا ہے کہ تم اپنے مذہب پر عمل کرو کیونکہ نیکی کا پہلا قدم یہی ہوتا ہے کہ انسان اپنے مذہب پر عمل کرے۔پھر دیکھو اسلام نے اہل کتاب کا ذبیحہ جائز رکھا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر مذہب نے کچھ اصول مقرر کئے ہیں اور اس کے ماننے والے ان اصول کی پیروی کرتے ہیں۔تم سمجھتے ہو کہ یہودی سور نہیں کھاتے اس لئے تم تسلی سے ان کا ذبیحہ کھا لو گے۔اسی طرح