زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 274
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 274 جلد چهارم ہے۔غرض خود یورپین محققین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بائبل کے مقابلہ میں قرآن کریم کی روایت زیادہ درست ہے۔پس جب تاریخ کے ساتھ علم النفس مل جاتا ہے تو وہ اسے قطعی اور یقینی بنا دیتا ہے۔غلطیاں ہر علم والے سے ہوتی ہیں۔حساب میں بھی غلطیاں ہوتی ہیں، ڈاکٹری میں بھی غلطیاں ہوتی ہیں، انجینئر نگ میں بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔اسی طرح دوسرے علوم میں بھی غلطیوں کا امکان ہوتا ہے۔لیکن علم انہیں اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان میں امکان صحت موجود ہوتا ہے۔تاریخ میں بھی امکان صحت موجود ہے۔اس لئے وہ علم ہے۔غرض اگر سائیکالوجی کے ذریعہ واقعات کو جانچا جائے تو تاریخ چاہے کتنی پرانی ہو ہم اسے پرکھ لیں گے۔یہ کالج جن علوم کے لئے بنایا گیا ہے ان کا سیکھنا تعلیم الاسلام میں شامل ہے۔تعلیم الاسلام کے متعلق غلط طور پر کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی صرف نماز روزہ کے ہیں۔قرآن کریم سب علوم سے بھرا پڑا ہے۔خدا تعالیٰ نے شریعت اور قانونِ قدرت دونوں کو بنایا ہے۔پھر یہ عجیب بات ہے کہ ہم ان میں سے ایک کو مانتے ہیں اور ایک کو نہیں مانتے۔قانونِ قدرت بھی مذہب ہے اور خدا تعالیٰ کا بنایا ہوا ہے اور اس کے نتائج بھی یقینی ہیں۔قانونِ قدرت خدا تعالیٰ کا فعل ہے اور شریعت اس کا قول ہے۔اگر ہم خدا تعالیٰ کے قول سے استدلال کرتے ہیں تو اس کے فعل سے کیوں استدلال نہ کریں۔خدا تعالیٰ کے قول کو لے لینا اور اس کے فعل کو ترک کر دینا ایک بے ڈھنگے اور بے اصولے آدمی کا کام ہے۔خدا تعالیٰ مومنوں کو نصیحت کرتا ہے کہ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ 3 تم وہ کچھ کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔گویا اس نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کریں بھی۔پھر خدا تعالیٰ یہ کس طرح کر سکتا ہے کہ وہ کہے کچھ ، اور کرے کچھ۔ہمارا خدا تعالیٰ کے متعلق اس قسم کا اعتقاد رکھنا درست نہیں ہو سکتا۔اس نے دین کو بھی بنایا ہے اور زمین و آسمان کو بھی پیدا کیا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک اس کا قول ہے اور دوسرا اس کا فعل۔اور یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی مؤید ہیں۔اور جب خدا تعالیٰ کا قول اور فعل ایک دوسرے کے موید ہیں