زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 267
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 267 جلد چهارم اور باتیں تو جانے دو تم سب مسلمان ہو مسلمان ہونے کی وجہ سے تم نے بعض باتیں سنی تو ہوں گی۔جن لوگوں نے یورپین مصنفین کی کتابیں نہیں پڑھیں ان کے لئے شاید یہ نئی بات ہو لیکن جو لوگ اور مینٹلسٹوں (Orientalists) کی کتابیں پڑھنے کے عادی ہیں انہوں نے یہ بات پہلے ہی پڑھی ہوگی۔بہر حال جن لوگوں کو اس کا علم نہیں ان کے لئے یہ بات بالکل اچنبھا ہے کہ یورپین مصنفین اسلام کے متعلق اس قدر جھوٹ بولتے ہیں کہ وہ کی اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ محمد ﷺ کی نعش نَعُوذُ باللهِ زمین اور آسمان کے درمیان لٹکی ہوئی ہے۔اب کیا تم نے یہ بات کسی جاہل سے جاہل مسلمان سے بھی سنی ہے؟ تم نے یہ تو سنا ہو گا کہ فلاں بزرگ نے مردہ پر پانی پھینکا اور وہ زندہ ہو گیا۔تم نے یہ بھی سنا ہوگا کہ فلاں بزرگ نے پھونک ماری تو مکان سونے کا بن گیا۔اگر تم میں سے کسی نے امام شعرانی کی کتاب پڑھی ہو گی تو اس نے اس قسم کے کئی واقعات اس میں پڑھے ہوں گے لیکن ان سب افتراؤں کے اندر تم نے یہ افترانہ پڑھا ہوگا نہ سنا ہوگا کہ رسول کریم ﷺ کی نعش نَعُوذُ باللہ زمین اور آسمان کے درمیان لٹکی ہوئی ہے لیکن یورپین مصنفین یہ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے۔پھر تم میں سے بعض نے شاید قرآن کریم با ترجمہ نہ پڑھا ہوگا لیکن مسلمان ہونے کی وجہ سے تم سب نے بعض باتیں سنی ہوں گی۔تم نے سنایا پڑھا ہوگا کہ قرآن کریم میں عورتوں اور مردوں دونوں کا ذکر ہے۔دونوں کی نمازوں اور استغفار کا ذکر ہے۔دونوں کے اچھے کاموں کی تعریف کی گئی ہے۔لیکن یورپین مصنفین اپنی کتابوں میں بلا استثناء لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی رو سے عورت میں روح نہیں پائی جاتی۔مرنے کے بعد جس طرح کتا، بلی اور دوسرے جانوروں کی روحیں ضائع کر دی جائیں گی اسی طرح عورتوں کی روحیں بھی ضائع کر دی جائیں گی اور وہ جنت میں نہیں جائیں گی۔اب آپ لوگوں کے نزدیک یہ بات الف لیلہ کے واقعات سے بھی زیادہ جھوٹی ہے کیونکہ الف لیلہ نے پڑھنے والوں کے لئے دلچسپی کے سامان تو مہیا کئے ہیں لیکن اس بات نے تمہارے دلوں کو مجروح کیا ہے اور دکھ دیا