زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 21

زریں ہدایات (برائے طلباء) 21 جلد چهارم میں پاتے ہو اور ہمیشہ اس کا تازہ بتازہ مشاہدہ تم کو حاصل ہوتا ہے تو تم سمجھ لو کہ تمہارا قدم ایمان کے مقام پر رکھ دیا گیا ہے۔اب صرف عرفان اور سلوک کی منازل کا طے کرنا باقی ہے۔لیکن اگر ایسا نہیں، اگر یہ امر تمہارے مشاہدہ میں ابھی نہیں آیا، اگر ایک ایمانی احساس سے زیادہ اس حقیقت کو جامہ نہیں ملا تو سمجھ لو کہ ابھی منزل مقصود کا نشان بھی تم کو نہیں ملا اور ابھی تم دیار محبوب کے قریب بھی نہیں پھٹکے۔اس صورت میں ہوشیار ہو جاؤ کہ شیطان تمہارے قریب ہے اور ابلیس تم پر پنجہ مارنا ہی چاہتا ہے۔شاید میں اپنے مقصد سے دور ہو رہا ہوں میں تم کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ سب علم قرآن کریم میں ہی ہے۔اور اس کی کنجی محبت الہی ہے۔جو خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے اسے قرآن کریم کا علم دیا جاتا ہے۔اور جو اس کے قبضہ میں اپنے آپ کو دے دیتا ہے وہ اس کی عرفان کے دودھ سے خود پرورش کرتا ہے۔پس میں تم کو انگلستان کسی علم سیکھنے کے لئے نہیں بھجوا رہا کہ جو کچھ علم کہلانے کا مستحق ہے وہ قرآن کریم میں موجود ہے۔اور جو قرآن کریم میں نہیں وہ علم نہیں جہالت ہے۔میں مبالغہ سے کام نہیں لے رہا۔میں کلام کو چست فقرات سے مزین نہیں کر رہا بلکہ یہ ایک حقیقت ہے، یہ ایک مشاہدہ ہے اور اس کے لئے میں ہر قسم کی قسم اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔میرے کلام میں نقص کا احتمال تو ہو سکتا ہے لیکن مبالغہ کا نہیں۔وَاللهُ عَلَى مَا أَقُولُ شَهِيدٌ۔میں تم کو انگلستان بھجوا رہا ہوں اس غرض سے جس غرض سے رسول کریم میں اپنے صحابہ کو فتح مکہ سے پہلے مکہ بھجوایا کرتے تھے۔میں اس لئے بھجوا رہا ہوں کہ تم مغرب کے نقطہ نگاہ کو سمجھو۔تم اس زہر کی گہرائی کو معلوم کرو جو انسان کے روحانی جسم کو ہلاک کر رہا ہے۔تم ان ہتھیاروں سے واقف اور آگاہ ہو جاؤ جن کو دجال اسلام کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔غرض تمہارا کام یہ ہے کہ تم اسلام کی خدمت کے لئے اور دجالی فتنہ کی پامالی کے لئے سامان جمع کرو۔یہ مت خیال کرو کہ وہاں سے تم کچھ حاصل کر سکتے ہو۔وہاں کی ہر چیز آسانی سے یہاں مل سکتی ہے۔تم کو میں اس لئے وہاں بھجوا رہا ہوں کہ تم وہاں کے لوگوں کو کچھ سکھاؤ۔اگر تم کوئی صل الله